غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔
مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا مسلمانوں سے صلح اور امن کا معاہدہ تھا۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انھوں نے غداری کی۔ وہ معاہدہ کو توڑ کر مشرکین کے ساتھی بن گئے۔ جب حملہ آوروں کا لشکر مدینہ سے واپس چلا گیا تو اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستیوں پر چڑھائی کی۔ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کو گھیر لیا۔