You are reading a tafsir for the group of verses 33:25 to 33:27
ورد الله الذين كفروا بغيظهم لم ينالوا خيرا وكفى الله المومنين القتال وكان الله قويا عزيزا ٢٥ وانزل الذين ظاهروهم من اهل الكتاب من صياصيهم وقذف في قلوبهم الرعب فريقا تقتلون وتاسرون فريقا ٢٦ واورثكم ارضهم وديارهم واموالهم وارضا لم تطيوها وكان الله على كل شيء قديرا ٢٧
وَرَدَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا۟ خَيْرًۭا ۚ وَكَفَى ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلْقِتَالَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًۭا ٢٥ وَأَنزَلَ ٱلَّذِينَ ظَـٰهَرُوهُم مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ مِن صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعْبَ فَرِيقًۭا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًۭا ٢٦ وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَـٰرَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُمْ وَأَرْضًۭا لَّمْ تَطَـُٔوهَا ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرًۭا ٢٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔

مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا مسلمانوں سے صلح اور امن کا معاہدہ تھا۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انھوں نے غداری کی۔ وہ معاہدہ کو توڑ کر مشرکین کے ساتھی بن گئے۔ جب حملہ آوروں کا لشکر مدینہ سے واپس چلا گیا تو اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستیوں پر چڑھائی کی۔ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کو گھیر لیا۔ 25 دن تک محاصرہ جاری رہا۔ آخر میں خود ان کی درخواست پر سعد بن معاذ حَکَم مقرر ہوئے۔ حضرت سعد بن معاذ نے وہی فیصلہ کیا جو خود ان کی کتاب تورات میں ایسے مجرمین کےلیے مقرر ہے۔ یعنی بنو قریظہ کے سب جوان قتل کردئے جائیں۔ عورتیں اور لڑکے قیدِ غلامی میں لے ليے جائیں اور ان کے مال اور جائداد کو ضبط کرلیا جائے (استثناء 14: 10-20 )