فاعرض ھم وانتظر انھم منتظرون (32: 30) ” “۔ اس فقرے کی تہ میں دراصل بالواسطہ ایک دھمکی چھپی ہوئی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ دامن جھاڑ لیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں تو انجام معلوم ہے۔
اس آخری ضرب پر یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس میں طویل مطالعاتی سفر ہے ، اشارات و ہدایات ہیں اور قسم قسم کے مشاہدات اور دلائل دئیے گئے ہیں اور قلب انسانی کو ہر پہلو سے متاثر کرنے کی سعی کی گئی ہے اور ہر راستے سے اس کو کھینچ کر ہدایت کی طرف لانے کے لیے حملہ کیا گیا ہے۔