You are reading a tafsir for the group of verses 32:23 to 32:26
ولقد اتينا موسى الكتاب فلا تكن في مرية من لقايه وجعلناه هدى لبني اسراييل ٢٣ وجعلنا منهم ايمة يهدون بامرنا لما صبروا وكانوا باياتنا يوقنون ٢٤ ان ربك هو يفصل بينهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون ٢٥ اولم يهد لهم كم اهلكنا من قبلهم من القرون يمشون في مساكنهم ان في ذالك لايات افلا يسمعون ٢٦
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ فَلَا تَكُن فِى مِرْيَةٍۢ مِّن لِّقَآئِهِۦ ۖ وَجَعَلْنَـٰهُ هُدًۭى لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٢٣ وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةًۭ يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا۟ ۖ وَكَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يُوقِنُونَ ٢٤ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٢٥ أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـٰكِنِهِمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ ۖ أَفَلَا يَسْمَعُونَ ٢٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

خداکی کتاب کسی گروہ کو ملنا اس کو امامت عالم کی کنجی عطا کرنا ہے۔ مگرامامت عالم کا مقام کسی گروہ کو اس وقت ملتاہے جب کہ وہ صبر کا ثبوت دے۔ لَمَّا صَبَرُواکی تفسیر لَمَّا صَبَرُوا عَنِ الدُّنْيَا سے کی گئی ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 463 ) یعنی پیشوائی کا مقام انھیں اس وقت ملا جب کہ انھوں نے دنیا سے صبر کیا۔

لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انھیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ جو اس وقت اصول کےلیے جئے جب کہ لوگ مفاد کےلیے جیتے ہیں۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کرلے جب کہ لوگ پانے کےلیے دوڑتے ہیں۔ جو اس وقت حق کےلیے قربان ہوجائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کےلیے قربان ہونا جانتے ہیں۔ یہی صبر ہے اور جولوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں۔

دین میں نئی نئی تشریح وتعبیر نکال کر جو لوگ اختلافات کھڑے کرتے ہیں وہ اپنے ليے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخر کار خدا ان کی بات کو رد کردے اور اس کے بعد ابدی ذلت کے سوا اور کچھ ان کے حصہ میں نہ آئے — آدمی اکثر حالات میں سبق نہیں لیتا، یہاں تک کہ جو کچھ دوسروں پر گزرا وہی اس پر بھی نہ گزر جائے۔