You are reading a tafsir for the group of verses 32:12 to 32:14
ولو ترى اذ المجرمون ناكسو رءوسهم عند ربهم ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون ١٢ ولو شينا لاتينا كل نفس هداها ولاكن حق القول مني لاملان جهنم من الجنة والناس اجمعين ١٣ فذوقوا بما نسيتم لقاء يومكم هاذا انا نسيناكم وذوقوا عذاب الخلد بما كنتم تعملون ١٤
وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلْمُجْرِمُونَ نَاكِسُوا۟ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَٱرْجِعْنَا نَعْمَلْ صَـٰلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ ١٢ وَلَوْ شِئْنَا لَـَٔاتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَىٰهَا وَلَـٰكِنْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ مِنِّى لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ ١٣ فَذُوقُوا۟ بِمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَآ إِنَّا نَسِينَـٰكُمْ ۖ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ١٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ولو تری اذ المجرمون ۔۔۔۔۔۔ بما کنتم تعلمون (12 – 14)

یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں منکرین قیامت نہایت ہی شرمندگی کے ساتھ اعتراف کر رہے ہیں۔ اب وہ اس سچائی کو مان رہے ہیں جس کا وہ انکار کرتے تھے۔ وہ یہ درخواست کریں گے کہ ہمیں ایک بار پھر زمین پر لوٹا دیا جائے اور وہ اب کی بار اس کمی کو پورا کردیں گے جو پہلی بار ہوگئی۔ یہاں شرمندگی کی وجہ سے وہ سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اب یہ لوگ اپنے اس رب کے پاس (عند ربھم) ہوں گے جس کے پاس حاضر ہونے کا وہ انکار کرتے تھے۔ لیکن ان کی یہ سب باتیں بعد از وقت ہوں گی اور اب اعتراف اور اعلان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ قبل اس کے کہ ان کی اس شرمندگی پر کوئی تبصرہ کیا جائے ، یہ بتا دیا جاتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں فیصلہ کن قوت کون سی ہے اور وہ کون سی قوت ہے جو لوگوں کے آخری انجام کا فیصلہ کرنے والی ہے۔

ولو شئنا لاتینا ۔۔۔۔۔ والناس اجمعین (32: 13) ” اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا “۔ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی راہ پر ڈال دیتا۔ اور یہ تھا طریقہ ہدایت ، جس طرح اس مخلوقات کا طریقہ ایک ہے جو الہام فطرت کے مطابق زندگی بسر کرتی ہے اور وہ پوری زندگی ایک ہی طرح سے گزارتی ہے جیسے حشرات الارض پرندے اور زمین پر چلنے والے جانور یا وہ مخلوق جو اطاعت شعار ہے مثلاً فرشتے ، لیکن اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ انسانوں کا ایک خاص مزاج اور ماہیت ہو۔ اس کے اختیار میں ہو کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا ضلالت اختیار کرے اور وہ اپنی اس مخصوص طبیعت کے ساتھ اس جہاں میں ایک مخصوص کردار ادا کرے جس کے لئے اللہ نے اسے اس کرہ ارض پر بھیجا ہے اور ایک منصوبے کے مطابق بھیجا ہے۔ چناچہ اس منصوبے کے تقاضے کے طور پر اللہ نے لکھ دیا کہ جنوں اور انسانوں سے وہ جہنم کو بھر دے گا ان لوگوں سے جو جنوں اور انسانوں میں سے ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ جس راہ کا انجام جہنم ہے۔ یہ لوگ جو اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش کیے گئے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اختیار اور خوشی سے جہنم کی راہ اختیار کی۔ اب وہ اللہ کے سامنے سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے :

فذوقوا بما نسیتم لقآء یومکم ھذا (32: 14) ” اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا “۔ یہ ہے تمہارا دن جو حاضر کیونکہ اس منظر میں ہم اسے حاضر دیکھ رہے ہیں۔ تم نے چونکہ اس دن کو بھلا دیا تھا۔ اب اس کا مزہ چکھو۔ تمہارے پاس کافی وقت تھا مگر تم نے اس کے لئے تیاری نہ کی۔

ان نسینکم (32: 14) ” ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا ہے “۔ اللہ تو کسی کو نہیں بھلاتا۔ لیکن ان کے ساتھ معاملہ اس طرح کرتا ہے کہ گویا وہ نسیا منسیا کر دئیے گئے ہیں۔ یہ ایسا سلوک ہے جس میں انہیں توہین آمیز انداز میں نظر انداز کردیا گیا ہے۔

وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون (32: 14) ” چکھو ، اب ہمیشگی کے عذاب کا مزہ اپنے کرتوتوں کی پاداش میں “۔ اب اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور مجرموں کو ان کے برے انجام میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ منظر قرآن کے پڑھنے والے کے پردہ فکر پر یوں نقش ہوتا ہے کہ گویا اب یہ لوگ وہاں اسی حال میں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ تو وہ وہاں ہی کھڑے ہیں جہاں چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ یہ ہے قرآن کی اندر کی تصویر کشی۔

اب اس مشاہدہ و منظر پر پردہ گرتا ہے اور ایک دوسرا منظر سامنے آتا ہے ، اس دوسرے منظر کا ماحول اور فضا مختلف ہے۔ یہ ایک دوسری ہی عطر آمیز اور فرحت بخش فضا ہے جس میں دل اڑا جا رہا ہے ، یہ مومنین کا منظر ہے۔ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، نہایت یکسوئی سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، وہ اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اس حال میں کہ ان کے دل کے اندر خدا کا خوف بیٹھا ہے۔ ان کے دل کانپ رہے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے فضل و کرم کی امیدیں لیے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے رب ذوالجلال نے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔