ان الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الارحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس باي ارض تموت ان الله عليم خبير ٣٤
إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌۭ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًۭا ۖ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌۢ بِأَىِّ أَرْضٍۢ تَمُوتُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌۢ ٣٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ان اللہ عندہ ۔۔۔۔۔ ان اللہ علیم خبیر (34)

اللہ تعالیٰ نے قیام قیامت کی گھڑی کو ایک ایسا غیب رکھا ہے جس کا علم کسی کو نہیں ہے تاکہ لوگ ہر وقت چوکنے رہیں۔ ہر وقت قیامت کی توقع کرتے رہیں۔ اور ہر وقت یہ کوشش کرتے رہیں کہ اس کے لیے کچھ کمائیں۔ ان کو معلوم نہیں ہے کہ کب قیامت ہوگی۔ بہرحال یہ اچانک آجائے گی اور اس وقت پھر کسی تیاری کی کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ نہ کوئی توشہ جمع کرنے کی اجازت ہوگی۔ اللہ اپنی حکمت کے مطابق جہاں چاہتا ہے ، بارش برساتا ہے ، جس قدر چاہتا ہے ، برساتا ہے۔ لوگ اپنے تجربوں اور آلات و علامات کے ذریعہ بارش کے قریب ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں۔ لیکن وہ نہ بارش برسانے کے اسباب پیدا کرسکتے ہیں اور نہ وقت کا علم رکھتے ہیں۔ آیت میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ بارش اللہ برساتا ہے کیونکہ اللہ ہی ہے جو بارش کے لیے طبیعی اسباب فراہم کرتا ہے اور ان کو منظم کرتا ہے۔ بارش میں اللہ کا اختصاص یہ ہے کہ اللہ ہی ان کے برسانے پر قادر ہے۔ جیسا کہ آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے بارش کے وقت کو اللہ کے مخصوص غیبی علوم میں داخل کیا ہے ، ان کا خیال درست نہیں ہے ، حالانکہ علم دراصل اللہ ہی کا ہوتا ہے اور وہ ہر معاملے میں مختص ہوتا ہے کیونکہ اللہ کا علم ہی صحیح ، دائمی اور حاوی ہوتا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔

ویعلم ما فی الارحام (31: 34) ” وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے “۔ یہ اس طرح کا مخصوص علم ہے جس طرح قیام قیامت کا علم اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے رحم میں کیا ہے۔ یعنی پیٹ کے اندر ہر لحظہ اور ہر لمحہ کیا پرورش ہو رہی ہے۔ خصوصا اس وقت جبکہ حمل کا کوئی وزن اور حجم نہیں ہوتا۔ پیٹ میں مذکر ہے یا مونث ہے ، ابتدائی وقت سے جب خلیہ انڈے میں داخل ہوتا ہے ، اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خدوخال کیا ہیں۔ خواص کیا ہیں ، حالت کیا اور صلاحیت کیا ہے۔ یہ سب امور اللہ کے علم کے ساتھ مختص ہیں۔

وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا (31: 34) ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے “۔ اچھائی کمائے گا یا برائی۔ اسے نفع ہوگا یا نقصان۔ آسانی ہوگی یا مشکلات سے دوچار ہوگا۔ صحت مند رہے گا یا بیمار ہوگا۔ اللہ کی اطاعت کرے گا یا معصیت کرے گا۔ اس لیے کہ کسب محض منافع سے بہت عام ہے۔ کسب کے اندر وہ تمام حالات داخل ہیں جو کسی شخص کو پیش آسکتے ہیں۔ یہ ایک غیبی امر ہے جس کے دروازے بند ہیں۔ یہ پردوں کے پیچھے ہے اور انسان پردوں کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے۔ اور وہ نہیں جانتا کہ آگے کیا ہے ؟

وما تدری ۔۔۔۔۔ تموت (31: 34) ” کسی شخص کو خبر نہیں کہ کس زمین پر اسے موت آئے گی “۔ کیونکہ یہ بھی ایک ایسا معاملہ ہے جو پردہ فردا کے پیچھے ہے اور مستقبل کا دبیز پردہ اس کے اور نفس انسانی کے درمیان حائل ہے۔ نفس انسانی ان پردوں سے ادھر کھڑا ہے۔ وہ بےبس ہے ، اسے کچھ معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انسان کا علم کس قدر محدود ہے۔ اس کی بےبسی واضح ہے۔ اس طرح سوچنے سے اس کے ذہن سے علم و معرفت کا غرور ختم ہوجاتا ہے اور اس طرح ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ انسان کو بہت ہی قلیل علم دیا گیا ہے اور یہ کہ پس پردہ فردا بیشمار ایسے امور ہیں جنہیں انسان نہیں جانتا۔ اگر انسان ان پردوں سے ادھر کی تمام چیزوں کو جانتا تو وہ ان پردوں کے پاس کھڑا ہوجاتا اور معلوم کرنے کی کوشش کرتا کہ کل کیا ہوگا۔ لیکن انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ کل کیا ہوگا بلکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ یوں انسانی نفس اپنی کبرائی سے ذرا نیچے اتر آتا ہے۔ وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اے اللہ اگلے لمحے میں خیر ہو۔

قرآن کریم اللہ کے ان مخصوص علوم کو نہایت وسیع دائرے میں پیش کرتا ہے ۔ ایسے وسیع دائرے میں جس کا انسان پر بہت اثر ہوتا ہے۔ نہایت ہی گہرا اثر۔ یہ میدان زمان و مکان کی وسعت کو بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ حاضر بھی اس کی لپیٹ میں ہے اور آنے والا مستقبل بھی۔ قریب بھی اور بعید بھی۔ دلوں کے خیالات میں بھی اور وسوسوں اور تفکرات میں بھی۔ قیام قیامت کی ساعت بھی اور بارش کے اوقار بھی۔ پھر رحم مادر تک یہ میدان پھیلا ہوا ہے جو نظروں سے اوجھل ہے۔ پھر پردہ مستقبل قریب کے پیچھے کہ کل کیا ہوگا۔ زمانہ اگرچہ قریب ہے لیکن علم جہالت کی دور وادیوں میں ہے۔ موت اور قبر تک یہ دائرہ پھیل جاتا ہے۔

غرض اللہ کے مخصوص علم کا ایک وسیع دائرہ ہے۔ لیکن اس وسیع چادر کے کونوں کو سمیٹ کر قرآن کے انداز بیان نے اسے ایک گٹھڑی کی شکل میں جمع کردیا ہے۔ یہ علم غیب کی وسیع چادر ہے اور اس کے اندر مختلف النوع تمام امور ، کو رکھ کر سمیٹ لیا گیا ہے۔ اب یہ سب امور ، امور فہیہ مخصوصہ ہیں اور یہ گٹھڑی مضبوطی سے بندھی ہوئی ہے۔ اور اس سے سوئی کے ناکے کے برابر کوئی چیز باہر نہیں آسکتی۔ انسان کے سامنے ان علوم کا دروازہ بند ہے کیونکہ یہ دائرہ قدرت انسان سے باہر ہیں۔ انسان کے علم سے وراء ہیں ، اللہ کے سوا ان کو کوئی نہیں جانتا ، ہاں اللہ اپنے حکم سے کسی کو کچھ بتا دے تو الگ بات ہے ، اللہ علیم وخبیر ہے اور اس کے سوا کوئی علم وخبیر نہیں ہے۔

یہاں یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ یہ درحقیقت ایک طویل اور دور دراز کا سفر تھا۔ اب ہم اس دور دراز کے مطالعاتی سفر سے تھک تھکا کر واپس ہوتے ہیں۔ ہم نے اس میں طویل راہوں کو طے کیا ، بوجھ اٹھایا اور غوروفکر کیا۔ اس کائنات کا مشاہد قدرت دنیا اور اس کے بوقلموں پرندے اور چرندے دیکھے۔ یہ سورة 34 آیات پر مشتمل ہے لیکن معانی و افکار کی دنیا طویل و عریض ہے ، بڑی برکت والی ہے ، وہ ذات جس نے دل و دماغ کی تخلیق کی۔ جس نے اس قرآن کو اتارا ، جو دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے اور مومنین کے لیے ہدایت و رحمت ہے۔