الم تران الفلک ۔۔۔۔۔۔ کل ختار کفور (31 – 32)
یہ کشتی ان قوانین قدرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے شمندر ، کشتی ، ہوا ، زمین اور آسمانوں میں رکھتے ہیں۔ اللہ نے ان چیزوں کو ان خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا کہ کشتی سمندروں میں چلنے لگی ہے ، نہ ڈوبتی ہے ، اور نہ ایک جگہ منجمد رہتی ہے۔ اگر اس خواص میں سے کوئی بھی خاصیت کسی ایک چیز کی ختم ہوجائے تو کشتی سمندر میں نہ چل سکے۔ اگر پانی کی کثافت ختم ہوجائے یا کشتی کے مادے کی کثافت ختم ہوجائے یا اس کی مقدار میں کمی بیشی ہوجائے۔ ہوا کا دباؤ سمندر پر کم ہوجائے ، ہوا کی موجیں یا سمندر کی موجوں میں ظلل ہوجائے اور اگر وہ درجہ حرارت ختم ہوجائے جس کے مطابق پانی پانی رہتا ہے اور جس کی وجہ سے ہوا اور پانی کی موجیں مناسب حدود میں رہتی ہیں۔ اگر موجودہ حالت سے ایک فیصدی تبدیلی بھی ہوجائے تو کشتی سمندر کے پانیوں کے اوپر نہ تیر سکے۔ ان خواص کے علاوہ دوسرے عوامل کے مقابلے میں اللہ پر کشتی کا حامی و مددگار ہوتا ہے کہ امواج کی سرکشی کو روکتا ہے۔ طوفانوں اور موسمی اثرات سے بچاتا ہے۔ سمندر کی دوریوں میں اللہ کے سوا کوئی اور بچانے والا نہیں ہوتا لہٰذا یہ ہر حال میں اللہ کے رحم و کرم اور فضل و مہربانی کے ساتھ چلتی ہے۔ پھر اس کے اندر اللہ کے فضل کی چیزیں لدی ہوتی ہیں۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ فضل کے یہ دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔
لیریکم من ایتہ (31: 31) ” تاکہ وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے جو تمہاری نظروں کے سامنے ہیں۔ بشرطیکہ کوئی دیکھنا چاہے۔ ان میں کوئی اجمال اور اخفا نہیں ہے۔
ان فی ذلک ۔۔۔۔ شکور (31: 31) ” اس میں نشانیاں ہیں ہر صبار اور شکور کے لیے “۔ یعنی مشکلات پر صبر کرنے والا اور سہولیات پر شکر کرنے والا ۔ انسان ہر وقت ان دونوں حالات میں سے کسی ایک میں تو ہوتا ہی ہے۔ لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ نہ صبر کرتے ہیں اور نہ شکر کرتے ہیں۔ جب مصیبت آتی ہے تو چیختے لگتے ہیں اور اگر نجات دے دی جاتی ہے تو چند لوگوں کے سوا شکر نہیں کرتے۔
واذا غشیھم ۔۔۔۔۔ لہ الدین (31: 32) ” اور جب ان پر ایک موج سائبان کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو صرف اس کے لیے خالص کرکے “۔ ایسے حالات میں کہ کشتی گہرے سمندروں میں ایک پرکاہ کی طرح ہوتی ہے اور موجیں ایسی اٹھ رہی ہوتی ہیں جیسے سائبان ، اور کشتی کے اوپر آجاتی ہیں تو ایسے خطرناک حالات میں یہ لوگ جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر ، موہومہ خداؤں کو چھوڑ کر صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ امن وامان کے دنوں میں یہ جھوٹے اور موہوم معبود ان کی فطرت کو ڈھانپ لیتے ہیں اور فطرت اور خالق فطرت کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور حالت خطر میں جب یہ پردے گر جاتے ہیں اور ان کی فطرت پردوں اور تہوں کے نیچے کھلی ہو کر سامنے آتی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے سیدھی کھڑی ہوتی ہے۔ اپنے رب کی طرف رجوع کرلیتی ہے تو زمین اللہ کے لیے خالص کردیتی ہے۔ اب وہ ہر جھوٹے مدعی کا انکار کردیتی ہے ہر اس معبود
کو ترک کردیتی ہے جو اجنبی ہے اور دین اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کو پکارتی ہے۔
فلما نجھم الی البر فمنھم مقتصد (31: 32) ” پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے “۔ اسے امن و سلامتی اور خوشحالی و سرکشی اور حد سے گزرنے کی طرف نہیں بھینچ لاتی۔ اور یہ مسلسل اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ یہ ذکرو فکر میں اللہ کا پورا حق ادا نہیں کرتا ، کیونکہ ذاکر و شاکر جن انتہاؤں تک پہنچ سکتا ہے وہ یہی ہو سکتی ہیں کہ وہ ادا میں مقتصد ہو اور باطل سیدھا ہو۔ (لہٰذا مقتصد کا مطلب میانہ روی کا ہے) ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خطرہ ٹلتے ہی اور حالت امن آتے ہی وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔
وما یجحد بایتنا الا کل ختار کفور (31: 32) ” اور ہماری آیتوں کا انکار وہی شخص کرتا ہے جو غدار اور ناشکرا ہو “۔ ختار ، سخت غدار کو کہتے ہیں اور کفور شدید کفر کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ یہ مبالغہ ایسا ہے کہ جو کسی شخص کا وصف بن جاتا ہے اور یہ الفاظ اس شخص کے لیے بہت ہی مناسب ہیں جو کائنات کی ان لاجواب نشانیوں کو دیکھ کر بھی اور فطرت کی واضح منطق پاکر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرتا ہے۔
سمندر کی خوفناکیوں کی مناسبت سے ، جہاں لوگوں کا غرور علم ، غرور قوت اور غرور قدرت کا فور ہوجاتا ہے اور فطرت کے اوپر سے باطل کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور انسان فطری دلائل و نشانات کو اپنے سامنے پاتا ہے۔ ان خوفناکیوں کی مناسبت سے یہاں بتا دیا جاتا ہے کہ اصل ہولناکیوں کا دن تو قیامت دن ہوگا۔ اس کے مقابلے میں سمندر کی ہولناکیاں کبھی بھی نہیں ہیں۔ وہ ایسا ہولناک دن ہوگا کہ باپ بیٹے کا تعلق ، رحم کا تعلق اور خون کا تعلق بھی ختم ہوگا۔ والد اپنی اولاد کو چھوڑ دے گا اور بیٹا والدین سے بھاگ رہا ہوگا وہاں ہر شخص اکیلا کھڑا ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا اور کوئی سہارا نہ ہوگا۔ تمام رشتہ داریاں اور تعلقات ختم ہوں گے۔