You are reading a tafsir for the group of verses 31:25 to 31:26
ولين سالتهم من خلق السماوات والارض ليقولن الله قل الحمد لله بل اكثرهم لا يعلمون ٢٥ لله ما في السماوات والارض ان الله هو الغني الحميد ٢٦
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۚ قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٢٥ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ ٢٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ ھو الغنی الحمید (25 – 26) ” ۔ ۔

کوئی معقول انسان جب خود اپنے دل سے پوچھے کہ آخر اس کائنات عظیم کا خلاق کون ہے تو وہ یہی جواب پائے گا کہ اللہ۔ یہ جواب ہر شخص اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ یہ زمین اور یہ افلاک ہماری نظروں کے سامنے قائم ہیں ، ان کے حالات ، ان کے حجم ، ان کی حرکات ، ان کی دوریاں ، ان کے خواص اور ان کی صفات سب کے سب اندازہ کیے ہوئے ، صحیح اور متعین اور باہم نظم اور نسق میں پروئے ہوئے۔ پھر یہ مخلوق ہیں اور کوئی مدعی بھی نہیں ہے کہ ان کا وہ خالق ہے۔ نہ یہ کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ان کا اور یہ بھی عقلا ممکن نہیں ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود یونہی پیدا ہوگئی ہے۔ پھر یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کسی مدبر کا ہونا لازم ہے۔ جو شخص اس کا قائل ہے کہ یہ خود بخود وجود میں آگئی ، خود بخود قائم ہوگئی اور منظم ہوگئی محض اتفاقاً ، تو اس سے بڑا احمق اور کوئی نہیں ہے۔ اس قسم کے قول کو فطرت اپنی گہرائیوں کے ذریعہ مسترد کردیتی ہے۔

وہ لوگ جو اس دور میں عقیدہ توحید کا مقابلہ کر رہے تھے اور نبی ﷺ کی دعوت کا راستہ روکے کھڑے تھے سخت مجادلہ کر رہے تھے ۔ یہ لوگ خود اپنی فطرت کے شعور اور منطق کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے ، جب ان کے سامنے یہ کائنات اور اس کی موجودگی کو رکھا جاتا تھا ، جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھی اور صرف دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے وہ اس سوال کے جواب میں کوئی تردد نہ کرتے تھے۔ جب پوچھا جاتا کہ ” زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو وہ فوراً کہہ دیتے “ اللہ نے “۔ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس جواب کے جواب میں بس اللہ کی حمد کریں ” الحمدللہ “۔ الحمدللہ کہ ان پر حق واضح ہوگیا اور انہوں نے فطری منطق کو تسلیم کرلیا۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ اس کائنات کی تخلیق کی حد تک موحد ہوگئے۔ اس کے سوا ہر حال میں حمد و ثنا کرتے رہو۔ اب جدال و مباحثہ کو چھوڑ کر ایک دوسرا تبصرہ۔

بل اکثرھم لا یعلمون (31: 25) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ بحث اور مجادلہ کرتے ہیں۔ دلائل فطرت کو نہیں سمجھتے اور اس عظیم کائنات کے ہوتے ہوئے بھی عقیدہ توحید کے قائل نہیں۔ انہوں نے چونکہ زمین اور آسمان کی تخلیق کی حد تک اللہ کی وحدانیت کو مان لیا ہے اس لئے اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ خالق ہونے کے ناطے اس کائنات کا مالک مطلق بھی ہے۔ اس حصے کا بھی جسے انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے اور اس حصے کا بھی جسے مسخر نہیں کیا گیا۔ لیکن وہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ساری مخلوق سے غنی ہے اور وہ اپنی ذات میں خود محمود ہے اگرچہ لوگ اس کی حمد و ثنا نہ کریں۔

للہ ما فی السموت والارض ان اللہ ھو الغنی الحمید (31: 26) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ بیشک اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ یہ سفر اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ غنا ختم ہونے والی نہیں۔ اللہ کا علم لامحدود ، اس کی قدرت بےانتہا اور اس کی مشیت کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تمام مخلوق پر وہ قادر ہے اور یہ بات ایک کائناتی منظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔