ولقد اتينا لقمان الحكمة ان اشكر لله ومن يشكر فانما يشكر لنفسه ومن كفر فان الله غني حميد ١٢
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا لُقْمَـٰنَ ٱلْحِكْمَةَ أَنِ ٱشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌۭ ١٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ولقد اتینا لقمن ۔۔۔۔۔ غنی حمید (12)

حضرت لقمان حکیم کی زبانی یہاں عقیدہ توحید ، عقیدہ آخرت اور دوسری اخلاقی تعلیمات یہاں دی گئی ہیں۔ ان کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نبی تھے اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ نبوت کے منصب کے بغیر ایک عبد صالح تھے زیادہ تر مفسرین اس دوسری رائے کی طرف گئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ ایک حبشی غلام تھے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نوبہ کے رہنے والے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ججوں میں سے ایک جج تھے۔ وہ جو بھی ہوں قرآن نے ہمیں یہ اطلاع دی ہے کہ وہ ایک ایسا شخص تھا جس کو اللہ نے حکمت عطا کی تھی اور اس حکمت اور فلسفے کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔

ولقد اتینا ۔۔۔۔ اشکر للہ (31: 12) ” ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کے شکر گزار بنو “۔ چناچہ قرآن کریم ہمیں اس قصے کے ضمن میں یہ ہدایت دیتا ہے کہ تم لوگ اللہ کا شکر ادا کرو اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت اور اطلاع کہ شکر تو شکر کرنے والے کیلئے ایک ذخیرہ ہے۔ اس کے نتیجے میں خود شاکر کو نفع ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تو غنی بادشاہ ہے کوئی شکر کرے یا نہ کرے اس کی بادشاہت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اللہ تو بذات خود محمود اور قابل ستائش ہے ، چاہے کوئی اس کی حمد و ثنا کرے یا نہ کرے

ومن یشکر۔۔۔۔۔ غنی حمید (31: 12) ” جو کوئی شکر کرے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بےنیاز ہے “۔ لہٰذا بہت بڑا احمق ہے وہ جو حکمت کے مخالف ہو اور وہ اپنے لیے یہ سرمایہ جمع نہ کرتا ہو۔

اب مسئلہ توحید ایک تقریر کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کے سامنے کی۔