ہَلْ مِنْ شُرَکَآءِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْءٍ ط ”اے گروہ مشرکین ! کیا تمہارے لات ‘ منات اور عزیٰ میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی ایک کام بھی سر انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو ؟ دراصل مشرکین مکہ خود ہی یہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اللہ ہے اور زندگی و موت کا اختیار بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ لات و منات وغیرہ کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا : ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے اور ان کی سفارش سے آخرت میں وہ چھوٹ جائیں گے۔