فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ کل حزب بما لدیھم فرحون (30 – 32)
” ۔ “۔ یہ ہدایت نہایت بروقت آتی ہے کہ اپنی توجہات اس دین کی طرف کر دو ۔ یہ ہدایت اس وقت آتی ہے جب قرآن نے انسانی فکر کو اس کائنات کی ماہیت ، اس کائنات کے مناظر ، نفس انسانی کی گہرائیوں اور اس کی فطرت کے نشیب و فراز میں خوب گھمایا اور دوڑایا۔ اس سیر اور مطالعہ کے بعد سلیم الفطرت ذہن تسلیم کرنے اور استقبال حق کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ ہدایت کہ تم لوگ اپنے چہرے کو دین ضعیف کی طرف پھیر دو ، بہت بروقت ہدایت ہے۔ اس کے مقابلے میں منحرفین اور مکذبین کی حالت یہ ہے کہ ان کے سامنے عقل و خرد اور دلیل وبرہان کے تمام ہتھیار کند ہوگئے اور انہوں نے مان کردینے سے صاف صاف انکار کردیا۔ باوجود اس کے کہ یہ ان کے پاس کوئی دلیل اور حجت نہیں ہے۔ یہ ہے وہ دلیل اور برہان اور لاجواب انداز گفتگو جس کے ذریعہ قرآن کریم حق کو پیش کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں کوئی عقل ٹھہر نہیں سکتی اور نہ فطرت سلیمہ انکار کرسکتی ہے۔
فاقم وجھک للذین حنیفا (30: 30) ” پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو “۔ اور سیدھے سیدھے اس دین کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ یہی دین ایسا ہے جو انسان کو متفرق خواہشات سے بچا سکتا ہے ان خواہشات کی پشت پر حق بالعموم نہیں ہوتا۔ یہ علم اور تحقیق پر مبنی نہیں ہوتیں۔ یہ محض طبیعی شہوت اور مادی میلانات پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کی پشت پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا تمام سمتوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی سمت اختیار کرلو۔ سیدھے سیدھے۔ اس کے سوا تمام سمتوں کو پس پشت ڈال دو ۔
فطرت اللہ ۔۔۔۔۔ لخلق اللہ (30: 30) ” اس فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی “۔ یوں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ فطرت انسانی اور اس دین کے اندر گہرا ربط ہے۔ یعنی دونوں اللہ کی مصنوعات و تخلیقات ہیں۔ دونوں اس ناموس کے مطابق ہیں جو اس کائنات کی روح ہے اور دونوں ایک دوسرے کے موافق اور ہم رخ اور ہم سمت ہیں۔ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا اسی نے یہ دین نازل کیا کہ یہ انسانوں کی زندگیوں میں نافذ ہو اور انسانوں کی پوری زندی اس کے مطابق چلے۔ یہ دین ہی فطرت انسانی کا علاج ہے ، اسے روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے اور صحیح راہ سے منحرف ہونے نہیں دیتا۔ کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔ وہ تو نہایت باریک بین اور بہت بڑا خبردار ہے۔ جس طرح فطرت ثابت ہے اسی طرح دین بھی ثابت اور مستحکم ہے۔
لا تبدیل لخلق اللہ (30: 30) ” اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدل نہیں سکتی “۔ جب نفس انسانی فطری راہ سے منحرف ہوجائے تو صرف یہی دین اسے فطرت کی راہ پر ڈال سکتا ہے کیونکہ فطرت کائنات ، فطرت انسانی اور فطرت دین ایک ہی ہیں۔
ذلک الدین ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (30: 30) ” یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ چناچہ وہ بغیر علم کے اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ اور یوں راہ راست سے بھٹک کر بہت دور چلے جاتے ہیں “۔ یہ حکم کہ اپنے چہرے کو دین قیم کی طرف کو لو اگرچہ لفظا حضور اکرم ﷺ کو ہے لیکن اس کے اندر تمام اہل ایمان بھی آتے ہیں لہٰذا
آگے کی تفصیلات میں ان کو بھی شامل کردیا گیا۔
منیبین الیہ واتقوہ ۔۔۔۔۔ بما لدیھم فرحون (30: 31 – 32) ” اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ، اور ڈرو اس سے ، اور نماز قائم کرو ، اور نہ ہوجاؤ ان مشرکین میں سے جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے “۔ انابت سے مراد اللہ کی طرف رجوع ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں۔ جب انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ حساس ہوجاتا ہے تو وہ خفیہ اور کھلے بندوں ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے خدا کا شعور ہوتا ہے۔ پھر وہ اس شعور اور حساسیت کے اعلیٰ مقام صلوٰۃ کی طرف دوڑتا ہے۔ اس شعور سے تمام ماسوا اللہ مٹ جاتا ہے لہٰذا وہ موحد ہوجاتا ہے اور مشرکین سے جدا ہوجاتا ہے اور مشرکین کون ہوتے ہیں۔
الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا (30: 32) ” جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا اور گروہوں میں بٹ گئے “۔ شرک کے بھی کئی رنگ اور اقسام ہیں۔ بعض لوگ جنوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملائکہ کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آباؤ اجداد کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملوک و سلاطین کو ، بعض کاہنوں اور مولویوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پتھروں اور درختوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض سیاروں اور ستاروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں اور بعض خواہشات اور اغراض کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پیروں اور فقیروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ غرض شرک کی بیشمار قسمیں ہیں اور
کل حزب بما لدیھم فرحون (30: 32) جبکہ دین قیم ایک ہے ، اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ دین حق کے پیروکار صرف ایک اللہ ، ایک قبلہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس اللہ کی طرف جس نے ان آسمانوں کو تھام رکھا ہے۔ وہ آسمانوں کا بھی بادشاہ ہے اور زمین کا بھی اور سب اس کے مطیع فرمان ہیں۔