دو آدمیوں کے درمیان نقد معاملہ ہو تو لین دین ہو کر اسی وقت معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ مگر ادھار معاملات کی نوعیت مختلف ہے۔ ادھار معاملہ میں اگر ساری بات زبانی ہو تو کاغذی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بعد کو اختلاف پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ طرفین اپنے اپنے مطابق معاملہ کی تصویر پیش کرتے ہیں اور کوئی ایسی قطعی بنیاد نہیں ہوتی جس کی روشنی میں صحیح فیصلہ کیا جاسکے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ادائيگی کے وقت اکثر دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا حل تحریر ہے۔ نقد معاملہ کو لکھ لیا جائے تو وہ بھی بہتر ہے۔ مگر ادھار معاملات کے لیے تو ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ تحریر میں لایا جائے اور اس پر گواہ بناليے جائیں۔ اختلاف کے وقت یہی تحریر فیصلہ کی بنیاد ہوگی۔ یہ مسلمان کے لیے تقویٰ اور عدل کی ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ کتابت شدہ شرائط کے مطابق وہ اپنے حقوق کو ادا کرکے خدا اور مخلوقکے سامنے بری الذمہ ہوجاتاہے۔
مسلمان خدا کے دین کے گواہ ہیں۔جس طرح اللہ کی بات کو جانتے ہوئے چھپانا جائز نہیں، اسی طرح انسانی معاملات میں کسی کے پاس کوئی گواہی ہو تو اس کو چاہيے کہ اس کو ظاہر کردے۔ گواہی کو چھپانا اپنے اندر مجرمانہ ذہن کی پرورش کرنا ہے اور معاملہ کے منصفانہ فیصلہ میں وہ حصہ ادا نہ کرنا ہے، جو وہ کرسکتا ہے۔ انسان کا ضمیر چاہتا ہے کہ جب ایک چیز حق نظر آئے تو اس کے حق ہونے کا اعتراف کیا جائے۔ اور جب ایک چیز ناحق دکھائی دے تو اس کے ناحق ہونے کا اعلان کیاجائے۔ ایسی حالت میں جو شخص اپنے وقار اور مصلحت کی خاطر اپنی زبان کو بند رکھتا ہے وہ گویا ایسا مجرم ہے جو اپنے جرم پر خود ہی گواہ بن گیا ہو۔