You are reading a tafsir for the group of verses 2:275 to 2:277
الذين ياكلون الربا لا يقومون الا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس ذالك بانهم قالوا انما البيع مثل الربا واحل الله البيع وحرم الربا فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف وامره الى الله ومن عاد فاولايك اصحاب النار هم فيها خالدون ٢٧٥ يمحق الله الربا ويربي الصدقات والله لا يحب كل كفار اثيم ٢٧٦ ان الذين امنوا وعملوا الصالحات واقاموا الصلاة واتوا الزكاة لهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون ٢٧٧
ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ ٱلرِّبَوٰا۟ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِى يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ مِنَ ٱلْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْبَيْعُ مِثْلُ ٱلرِّبَوٰا۟ ۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰا۟ ۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوْعِظَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٢٧٥ يَمْحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَيُرْبِى ٱلصَّدَقَـٰتِ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ٢٧٦ إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٢٧٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

بندوں کے درمیان باہمی طورپر جو معاشی تعلقات مطلوب ہیں ان کی علامت زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے حقوق کا اعتراف یہاںتک کرتاہے کہ وہ خود اپنی کمائی کا ایک حصہ نکال کر اپنے بھائی کو دیتاہے۔ جو دین حقوق شناسی کا ایسا ماحول بنانا چاہتا ہو وہ سود کے دولت پرستانہ طریقہ کو کسی طرح قبول نہیں کرسکتا۔ ایسے معاشرہ میں باہمی لین دین تجارت کے اصول پر ہوتا ہے، نہ کہ سودکے اصول پر تجارت میں بھی آدمی نفع لیتاہے۔ مگر تجارت کا جو نفع ہے وہ آدمی کی محنت اور اس کے خطرات مول لینے کی قیمت ہوتا ہے۔ جب کہ سود کا نفع محض خود غرضی اور زر اندوزی کا نتیجہ ہے۔

سود کا کاروبار کرنے والا اپنی دولت دوسرے کو اس ليے دیتاہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی دولت کو مزید بڑھائے۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوتاہے کہ اس کا سرمایہ یقینی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ مگر اس عمل کے دوران وہ خود اپنے اندر جو انسان تیار کرتاہے وہ ایک خود غرض اور دنیا پرست انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اپنی کمائی میں سے صدقہ کرتاہے، جو دوسروں کی ضرورت مندی کو اپنے ليے تجارت کا سودا نہیں بناتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے کو شریک کرتا ہے، ایسا شخص اپنے عمل کے دوران اپنے اندر جو انسان تیار کررہا ہے وہ پہلے سے بالکل مختلف انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جس کے دل میں دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ جو ذاتی دائرہ سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔

دنیا میں آدمی اس ليے نہیں بھیجا گیا ہے کہ وہ یہاں اپنی کمائی کے ڈھیر لگائے۔ آدمی کے لیے ڈھیر لگانے کی جگہ آخرت ہے۔ دنیا میں آدمی کو اس ليے بھیجا گیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں کون ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اس کو آخرت کی جنتی دنیامیں بسایا جائے۔ جو لوگ اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے ان کو خدا جنت کا باشندہ بننے کے لیے چن لے گا، اور باقی تمام لوگ کوڑا کرکٹ کی طرح جہنم میں پھینک ديے جائیں گے — صدقہ کی روح حاجت مند کو اپنا مال خدا کے لیے دینا ہے اور سود کی روح استحصال کے لیے دینا۔صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی آخرت میں اپنے ليے نعمتوں کا ڈھیر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سود اس بات کی علامت ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنے ليے ڈھیر لگانے کا خواہش مند ہے۔ یہ دو الگ الگ انسان ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا کے یہاں دونوں کا انجام یکساں قرار پائے۔ دنیا اسی کو ملتی ہے جس نے دنیا کے لیے محنت کی ہو، اسی طرح آخرت اسی کو ملے گی جس نے آخرت کے لیے اپنے اثاثہ کو قربان کیا۔