طلاق ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو غیر معمولی حالات میں پیش آتا ہے۔ مگر اس انتہائی جذباتی معاملہ میں بھی تقویٰ اور احسان پر قائم رہنے کا حکم دیاگیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں مومن سے کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
نکاح کے رشتہ کو یکبارگی توڑنے کے بجائے اس کو تین مرحلوں میں انجام دینے کا حکم ہوا جو چند ماہ میں اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ ایک انتہائی ہیجانی معاملہ میں اس قسم کا سنجیدہ طریقہ مقرر کرکے بتایا گیا کہ اختلاف کے وقت مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ اپنے مخالف فریق کے ساتھ اس کا سلوک غیر جذباتی انداز میں سوچا ہوا صابرانہ فیصلہ ہو، نہ کہ اشتعال کے تحت ظاہر ہونے والا اچانک فیصلہ۔ اسی طرح طلاق کے جتنے آداب مقرر کيے گئے ہیں، سب میں زندگی کا بہت گہرا سبق موجود ہے— علیحدگی کا ارادہ کرنے کے بعد بھی آدمی ایک مدت تک دوبارہ اتحادکے امکان پر غور کرتا رہے۔ تعلقات کے خاتمہ کی نوبت آجائے تب بھی وہ اس کو حقوق انسانیت کے خاتمہ کے ہم معنی نہ بنائے۔ باہمی سلوک کے لیے اللہ کا جو قانون ہے اس کی مکمل پابندی کی جائے۔ شریعت کے کسی حکم کو قانونی حیلوں کے ذریعہ کالعدم نہ کیا جائے۔ قانون کی تعمیل میں صرف قانون كے الفاظ کو نہ دیکھا جائے بلکہ اس کی حکمت (روح قانون) کو بھی سامنے رکھا جائے۔ علیحدگی سے پہلے اپنے سابقہ ساتھی کو جو کچھ دیا تھا اس کو علیحدگی کے بعد واپس لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ جس طرح تعلقات کے زمانہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا تھا اسی طرح علیحدگی کے زمانہ کو بھی خوش اسلوبی کے ساتھ گزارا جائے۔