You are reading a tafsir for the group of verses 2:219 to 2:220
۞ يسالونك عن الخمر والميسر قل فيهما اثم كبير ومنافع للناس واثمهما اكبر من نفعهما ويسالونك ماذا ينفقون قل العفو كذالك يبين الله لكم الايات لعلكم تتفكرون ٢١٩ في الدنيا والاخرة ويسالونك عن اليتامى قل اصلاح لهم خير وان تخالطوهم فاخوانكم والله يعلم المفسد من المصلح ولو شاء الله لاعنتكم ان الله عزيز حكيم ٢٢٠
۞ يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَآ إِثْمٌۭ كَبِيرٌۭ وَمَنَـٰفِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَآ أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ وَيَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ ٱلْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ ٢١٩ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۗ وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْيَتَـٰمَىٰ ۖ قُلْ إِصْلَاحٌۭ لَّهُمْ خَيْرٌۭ ۖ وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ ٱلْمُفْسِدَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ٢٢٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

چند سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہاں کچھ بنیادی اصول بتا ديے گئے ہیں (1)کسی چیز کا نقصان اگر اس کے نفع سے زیادہ ہوتو وہ قابل ترک ہے۔(2) اپنی واقعی ضرورت سے زیادہ جو مال ہو اس کو اللہ کی راہ میں دے دینا چاہيے۔ (3) باہمی معاملات میں ان طریقوں سے بچنا جو کسی بگاڑ کا سبب بن سکتے ہوں اور ان طریقوں کو اختیار کرنا جو اصلاح پیدا کرنے والے ہوں۔

شراب پی کر آدمی کو سرور حاصل ہوتا ہے۔ جوا کھیلنے والے کو کبھی محنت کے بغیر کافی دولت ہاتھ آجاتی ہے۔ اس اعتبار سے ان چیزوں میں نفع کا پہلو ہے۔ مگر دوسرے اعتبار سے ان کے اندر دینی اور اخلاقی نقصانات ہیں اور یہ نقصانات ان کے نفع سے بہت زیادہ ہیں۔ اس ليے ان سے منع کردیاگیا ۔ کسی چیز کو لینے یا نہ لینے کا یہی معیار زندگی کے دوسرے امور کے لیے بھی ہے۔ مثلاً وہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سرگرمیاں، وہ تمام تقریبات اور جلسے قابل ترک ہیں جن کے بارے میں دینی اور اقتصادی جائزہ بتائے کہ ان میں نفع کم ہے او رنقصان زیادہ۔

مسلمان وہ ہے جو آخرت کو اپنی منزل بنائے، جو اس تڑپ کے ساتھ اپنی صبح وشام کررہا ہو کہ اس کا خدا اس سے راضی ہو جائے۔ ایسے شخص کے لیے دنیا کا سازوسامان زندگی کی ضرورت ہے، نہ کہ زندگی کا مقصد۔ وہ مال حاصل کرتاہے، وہ دنیا کے کاموں میں مشغول ہوتاہے۔ مگر یہ سب کچھ اس کے لیے حاجت اور ضرورت کے درجہ میں ہوتا ہے، نہ کہ مقصد کے درجہ میں۔ اس کے اثاثہ کی جو چیز اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہو، اس کا بہترین مصرف اس کے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ و ہ اس کو اپنے رب کی راہ میں دے دے، تاکہ وہ اس سے راضی ہو اور اس کو اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے۔ اس کی ہر چیز بقدر حاجت اپنے ليے ہوتی ہے اور حاجت سے جو زیادہ ہو وہ دین کے ليے۔

باہمی معاملات اور کاروبار کے اکثر مسائل اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں صرف بنیادی ہدایات دی جاسکتی ہیں۔ ان کی تمام عملی تفصیلات کو قانون کے الفاظ میں متعین نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں یہ اصول مقرر کردیا گیا کہ اپنی نیت کو درست رکھو اور جو کارر وائی کرو یہ سوچ کر کرو کہ وہ کسی بگاڑ کا سبب نہ بنے۔ بلکہ صاحب معاملہ کے حق میں بہتری پیدا کرنے والی ہو۔ اگر تم دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتے ہوئے اس کے مصالح کی پوری رعایت رکھو گے اور تمھارا مقصود صرف اصلاح و درستگی ہوگا تو اللہ کے یہاں تمھاری پکڑ نہیں۔