يا ايها الذين امنوا ادخلوا في السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطان انه لكم عدو مبين ٢٠٨ فان زللتم من بعد ما جاءتكم البينات فاعلموا ان الله عزيز حكيم ٢٠٩ هل ينظرون الا ان ياتيهم الله في ظلل من الغمام والملايكة وقضي الامر والى الله ترجع الامور ٢١٠ سل بني اسراييل كم اتيناهم من اية بينة ومن يبدل نعمة الله من بعد ما جاءته فان الله شديد العقاب ٢١١ زين للذين كفروا الحياة الدنيا ويسخرون من الذين امنوا والذين اتقوا فوقهم يوم القيامة والله يرزق من يشاء بغير حساب ٢١٢
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱدْخُلُوا۟ فِى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةًۭ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ ٢٠٨ فَإِن زَلَلْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ٢٠٩ هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن يَأْتِيَهُمُ ٱللَّهُ فِى ظُلَلٍۢ مِّنَ ٱلْغَمَامِ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ ٢١٠ سَلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ كَمْ ءَاتَيْنَـٰهُم مِّنْ ءَايَةٍۭ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٢١١ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۘ وَٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ فَوْقَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ وَٱللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍۢ ٢١٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
اسلام کو اختیار کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ تحفظات اور مصلحتوں کا لحاظ کيے بغیر اس کو اپنایا جائے۔ اسلام جس چیز کو کرنے کو کہے اس کو کیا جائے اور جس چیز کو چھوڑنے کو کہے اس کو چھوڑدیا جائے۔ یہ کسی آدمی کا پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اسلام کو اسی حد تک اختیار کرے جس حد تک اسلام اس کی زندگی سے ٹکراتا نہ ہو۔ وہ اس اسلام کو لے لے جو اس کے لیے مفید یا کم از کم بے ضرر ہو۔ اور اس اسلام کو چھوڑے رہے جو اس کے محبوب عقائد، اس کی پسندیدہ عادات، اس کے دنیوی فائدے، اس کے شخصی وقار، اس کی قائدانہ مصلحتوں کو مجروح کرتا ہو۔ آدمی ابتداء ً پوری طرح ارادہ کرکے اسلام کو اختیار کرتاہے۔ مگر جب وہ وقت آتاہے کہ وہ اپنے فکری ڈھانچہ کو توڑے یا اپنے مفاد کو نظر انداز کرکے اسلام کا ساتھ دے تو وہ پھسل جاتا ہے۔ وہ ایسے اسلام پر ٹھہر جاتاہے جس میں اس کے مفادات بھی مجروح نہ ہوں اور اسلام کا تمغہ بھی ہاتھ سے جانے نہ پائے۔
اسلام کے پیغام کی صداقت پر یقین کرنے کے لیے اگر وہ دلائل چاہتے ہیں تو دلائل پوری طرح ديے جاچکے ہیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کو معجزات دکھائے جائیں تو جو شخص کھلے کھلے دلائل کو نہ مانے اس کو چپ کرنے کے لیے معجزات بھی ناکافی ثابت ہوں گے۔ اس کے بعد آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ یہ کہ خدا اپنے فرشتوں کے ساتھ سامنے آجائے۔ مگر جب ایسا ہوگا تو وہ کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ فیصلہ کا وقت ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا۔ انسان کا امتحان یہی ہے کہ وہ دیکھے بغیر محض دلائل کی بنیاد پر مان لے۔ اگر اس نے دیکھ کر مانا تو اس ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔
وہ لوگ جو مصلحتوں کو نظر انداز کرکے اسلام کو اپنائیں اور وہ لوگ جو مصلحتوں کی رعایت کرتے ہوئے مسلمان بنیں، دونوں کے حالات یکساں نہیں ہوتے۔ پہلا گروہ اکثر دنیوی اہمیت کی چیزوں سے خالی ہوجاتا ہے جب کہ دوسرے گروہ کے پاس ہر قسم کی دنیوی رونقیں جمع ہوجاتی ہیں۔ یہ چیز دوسرے گروہ کو غلط فہمی میں ڈال دیتی ہے۔ وہ اپنے کو برتر خیال کرتا ہے اور پہلے گروہ کو حقیر سمجھنے لگتاہے۔ مگر یہ صورت حال انتہائی عارضی ہے۔ موجودہ دنیا کو توڑ کر جب نیا بہتر نظام بنے گا تو وہاں آج کے ’’بڑے‘‘ پست کرديے جائیں گے اور وہی لوگ بڑائی کے مقام پر نظر آئیں گے جن کو آج ’’چھوٹا‘‘ سمجھ لیا گیا تھا۔