فان زللتم من بعد ما جاءتكم البينات فاعلموا ان الله عزيز حكيم ٢٠٩
فَإِن زَلَلْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ٢٠٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 209 فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآءَ ‘ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ اس میں تہدید اور دھمکی کا پہلو ہے کہ پھر اللہ کی پکڑ بھی بہت سخت ہوگی۔ اور پھر یہ کہ وہ حکیم بھی ہے ‘ اس کی پکڑ میں بھی حکمت ہے ‘ اگر اس کی طرف سے پکڑ کا معاملہ نہ ہو تو پھر دین کا پورا نظام بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر اللہ کی طرف سے کسی گناہ پر پکڑ ہی نہیں ہے تو پھر یہ آزمائش کیا ہوئی ؟ پھر جزا و سزا اور جنت و دوزخ کا معاملہ کیا ہوا ؟