You are reading a tafsir for the group of verses 2:186 to 2:188
واذا سالك عبادي عني فاني قريب اجيب دعوة الداع اذا دعان فليستجيبوا لي وليومنوا بي لعلهم يرشدون ١٨٦ احل لكم ليلة الصيام الرفث الى نسايكم هن لباس لكم وانتم لباس لهن علم الله انكم كنتم تختانون انفسكم فتاب عليكم وعفا عنكم فالان باشروهن وابتغوا ما كتب الله لكم وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر ثم اتموا الصيام الى الليل ولا تباشروهن وانتم عاكفون في المساجد تلك حدود الله فلا تقربوها كذالك يبين الله اياته للناس لعلهم يتقون ١٨٧ ولا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها الى الحكام لتاكلوا فريقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون ١٨٨
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنِّى قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لِى وَلْيُؤْمِنُوا۟ بِى لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ١٨٦ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ ٱلصِّيَامِ ٱلرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَآئِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌۭ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌۭ لَّهُنَّ ۗ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ۖ فَٱلْـَٔـٰنَ بَـٰشِرُوهُنَّ وَٱبْتَغُوا۟ مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلْخَيْطُ ٱلْأَبْيَضُ مِنَ ٱلْخَيْطِ ٱلْأَسْوَدِ مِنَ ٱلْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا۟ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَـٰشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَـٰكِفُونَ فِى ٱلْمَسَـٰجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ ءَايَـٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ١٨٧ وَلَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَـٰطِلِ وَتُدْلُوا۟ بِهَآ إِلَى ٱلْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا۟ فَرِيقًۭا مِّنْ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ١٨٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

روزہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے صبر کا عمل ہے اور صبر، یعنی حکم الٰہی کی تعمیل میں مشکلات کو برداشت کرنا ہی وہ چیز ہے جس سے آدمی اس قلبی حالت کو پہنچتا ہے جو اس کو خدا سے قریب کرے اور اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلوائے جو قبولیت کو پہنچنے والے ہوں۔ اللہ کو وہی پاتا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرے، اللہ تک اسی شخص کے الفاظ پہنچتے ہیں جس نے اپنی روح کے تاروں کو اللہ سے ملا رکھا ہو۔

شریعت آدمی کے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد نہیں کرتی۔ روزہ میں دن کے اوقات میں ازدواجی تعلق ممنوع ہونے کے باوجود رات کے اوقات میں اس کی اجازت، افطار وسحر کے اوقات جاننے کے لیے جنتری کا پابند کرنے کے بجائے عام مشاہدہ کو بنیاد قرار دینا اسی قسم کی چیزیں ہیں۔ جزئی تفصیلات میں بندوں کو گنجائش دیتے ہوئے اللہ نے عمومی حدیں واضح فرمادی ہیں۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ مقرر حدوں کا پوری طرح پابند رہے اور تفصیلی جزئیات میں اس روش کو اختیار کرے جو تقویٰ کی روح کے مطابق ہے۔

روزہ کے حکم کے فوراً بعد یہ حکم کہ ’’ناجائز مال نہ کھاؤ‘‘ بتاتا ہے کہ روزہ کی حقیقت کیا ہے۔ روزہ کا اصل مقصد آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنا ہے کہ جہاں خدا کی طرف سے رکنے کا حکم ہو، وہاں آدمی رک جائے، حتی کہ اگر حکم ہو تو جائزچیز سے بھی، جیسا کہ روزہ میں ہوتا ہے۔ اب جو شخص خدا کے حکم کی بنا پر حلال کمائی تک سے رک جائے وہ اسی خدا کے حکم کی بنا پر حرام کمائی سے کیوں نہ اپنے آپ کو روکے رکھے گا۔

مومن کی زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ اس کو ساری عمر کچھ چیزوں سے ’’افطار‘‘ کرنا ہے اور کچھ چیزوں سے مستقل طور پر’’روزہ‘‘ رکھ لینا ہے۔ رمضان کا مہینہ اسی کی تربیت ہے۔ پھر روزہ کی محتاط زندگی اور اس کا پُرمشقت عمل یہ سبق دیتاہے کہ اللہ کا عبادت گزار بندہ وہ ہے جو تقویٰ کی سطح پر اللہ کی عبادت کررہا ہو۔ اللہ کو پکارنے والا صرف وہ ہے جو قربانیوں کی سطح پر اللہ کی نزدیکی حاصل کرے۔