You are reading a tafsir for the group of verses 2:168 to 2:171
يا ايها الناس كلوا مما في الارض حلالا طيبا ولا تتبعوا خطوات الشيطان انه لكم عدو مبين ١٦٨ انما يامركم بالسوء والفحشاء وان تقولوا على الله ما لا تعلمون ١٦٩ واذا قيل لهم اتبعوا ما انزل الله قالوا بل نتبع ما الفينا عليه اباءنا اولو كان اباوهم لا يعقلون شييا ولا يهتدون ١٧٠ ومثل الذين كفروا كمثل الذي ينعق بما لا يسمع الا دعاء ونداء صم بكم عمي فهم لا يعقلون ١٧١
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ كُلُوا۟ مِمَّا فِى ٱلْأَرْضِ حَلَـٰلًۭا طَيِّبًۭا وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌ ١٦٨ إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِٱلسُّوٓءِ وَٱلْفَحْشَآءِ وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ١٦٩ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَآ أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۗ أَوَلَوْ كَانَ ءَابَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْـًۭٔا وَلَا يَهْتَدُونَ ١٧٠ وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ كَمَثَلِ ٱلَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَآءًۭ وَنِدَآءًۭ ۚ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌۭ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ١٧١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

شرک کیا ہے، جذباتِ عبودیت کی تسکین کے لیے خدا کے سوا کوئی دوسرا مرکز بنالینا۔ خدا انسان کی سب سے بڑی اور لازمی ضرورت ہے۔ خدا کی طلب انسانی فطرت میں اس طرح بسی ہوئی ہے کہ کوئی شخص خدا کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انسان کی گم راہی خدا کو چھوڑنا نہیں ہے بلکہ اصلی خدا کی جگہ کسی فرضی خدا کو اپنا خدا بنا لینا ہے۔ اس ليے شریعت میں ہر اس چیز کو حرام قرار دیاگیا ہے جو کسی بھی درجہ میں آدمی کی فطری طلب کو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف موڑ دینے والی ہو۔

بت پرست قومیں بتوں کے نام پر جانور چھوڑتی ہیں اور ان جانوروں سے نفع اٹھانا حرام سمجھتی ہیں۔ اس طرح کسی چیز کو اپنے ليے حرام کرلینا محض ایک سادہ قانونی معاملہ نہیں بلکہ یہ خدا كے دين كے بجائےايك خودساخته دين ايجاد كرناہے۔ کیوں کہ جب ایک چیز کو اس طرح حرام ٹھہرایا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی خود ساختہ عقیدہ کی وجہ سے اس کو مقدس سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ خدا کے حقوق میں غیر خدا کو ساجھی بنانا ہے، یہ احترام وتقدس کے ان فطری جذبات کو تقسیم کرنا ہے جو صرف خدا کے لیے ہیں اور جن کو صرف خدا ہی کے لیے ہونا چاہيے۔ شیطان اس قسم کے رواج اس ليے ڈالتا ہے تاکہ وه آدمی کے اندر چھپے ہوئے استعجاب وتقدس کے جذبات کو مختلف سمتوں میں بانٹ کر اللہ کے ساتھ اس کے تعلق کو کمزور کردے۔

ایک بار جب کسی غیر اللہ کو مقدس مان لیا جائے تو انسان کی توہم پرستی اس میں نئی نئی برائیاں پیدا کرتی رہتی ہے۔ ایک ’’جانور‘‘ کو ان پُراسرار اوصاف کا حامل گمان کرلیا جاتا ہے جو صرف خدا کے لیے خاص ہیں۔ اس کو خدا کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سے برکت اور کار برآری کی امید کی جاتی ہے۔ یہ چیز جب اگلی نسلوں تک پہنچتی ہے تو وہ اس کو آباواجداد کی مقدس سنت سمجھ کر اس طرح پکڑ لیتی ہیں کہ اب اس پر کسی قسم کا غور وفکر ممکن نہیں ہوتا۔ حتی کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ لوگ دلیل کی زبان سمجھنے سے اتنا زیادہ عاری ہوجاتے ہیں گویا کہ ان کے پاس نہ آنکھ اور کان ہیں جن سے وہ دیکھیں اور سنیں اور نہ ان کے پاس دماغ ہے جس سے وہ کسی بات کو سمجھیں۔