دوبارہ فرمایا گیا :آیت 150 وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ لا تم خواہ امریکہ میں ہو یا روس میں ‘ نماز کے وقت تمہیں بیت اللہ ہی کی طرف رخ کرنا ہوگا۔ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ لا یعنی اہل کتاب بالخصوص یہود کے لیے تمہارے خلاف بدگمانی پھیلانے کا کوئی موقع باقی نہ رہ جائے۔ تورات میں مذکور تھا کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگا۔ اگر آنحضور ﷺ یہ قبلہ اختیار نہ کرتے تو علماء یہود مسلمانوں پر حجت قائم کرتے۔ تو یہ گویا ان کے اوپر اتمام حجت بھی ہو رہا ہے اور قطع عذر بھی۔ اِلاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ ق شریر لوگ اس قطع حجت کے بعد بھی باز آنے والے نہیں اور وہ اعتراض کرنے کے لیے لاکھ حیلے بہانے بنائیں گے ‘ ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔فَلاَ تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِیْ ق وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ یہ جو تحویل قبلہ کا معاملہ ہوا ہے اورٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی بنیاد پر ایک نئی امت تشکیل دی جا رہی ہے ‘ اسے امامت الناس سے سرفراز کیا جا رہا ہے اور وراثت ابراہیمی علیہ السلام اب اسے منتقل ہوگئی ہے ‘ یہ اس لیے ہے تاکہ اے مسلمانو ! میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں۔