آیت 126 وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَہْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود ہی احتیاط برتی اور اپنی ساری اولاد کے لیے یہ دعا نہیں کی ‘ بلکہ صرف ان کے لیے جو اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہوں۔ اس لیے کہ پہلی دعا میں وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا : لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ لیکن یہاں معاملہ مختلف نظر آتا ہے۔قَالَ وَمَنْ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیْلاً جو لوگ ایمان سے محروم ہوں گے انہیں میں امامت میں شامل نہیں کروں گا ‘ لیکن بہرحال دنیوی زندگی کا مال و متاع تو میں ان کو بھی دوں گا۔ ثُمَّ اَضْطَرُّہٗ اِلٰی عَذَاب النَّارِ ط وَبِءْسَ الْمَصِیْرُ