۞ ولا تجادلوا اهل الكتاب الا بالتي هي احسن الا الذين ظلموا منهم وقولوا امنا بالذي انزل الينا وانزل اليكم والاهنا والاهكم واحد ونحن له مسلمون ٤٦
۞ وَلَا تُجَـٰدِلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا بِٱلَّذِىٓ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَـٰهُنَا وَإِلَـٰهُكُمْ وَٰحِدٌۭ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ ٤٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

داعی کےلیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ بحث کریں اور الجھیں ان سے وہ سلام کرکے جدا ہوجائے۔ اور جو لوگ سنجیدہ ہوں ان پر وہ امر حق کو واضح کرنے کی کوشش کرے۔ نیز یہ کہ دعوتی کلام کو حکیمانہ کلام ہونا چاہيے — اور حکیمانہ کلام کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ اس میں مدعو کی نفسیات کا پورا لحاظ کیاجاتاہے۔ داعی اپنی بات کو ایسے اسلوب سے کہتا ہے کہ مدعو اس کو اپنے دل کی بات سمجھے، نہ کہ غیر کی بات سمجھ کر اس سے متوحش ہوجائے۔ داعیانہ کلام ناصحانہ کلام ہوتا ہے، نہ کہ مناظرانہ کلام۔