فما كان جواب قومه الا ان قالوا اقتلوه او حرقوه فانجاه الله من النار ان في ذالك لايات لقوم يومنون ٢٤ وقال انما اتخذتم من دون الله اوثانا مودة بينكم في الحياة الدنيا ثم يوم القيامة يكفر بعضكم ببعض ويلعن بعضكم بعضا وماواكم النار وما لكم من ناصرين ٢٥ ۞ فامن له لوط وقال اني مهاجر الى ربي انه هو العزيز الحكيم ٢٦ ووهبنا له اسحاق ويعقوب وجعلنا في ذريته النبوة والكتاب واتيناه اجره في الدنيا وانه في الاخرة لمن الصالحين ٢٧
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَىٰهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ٢٤ وَقَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوْثَـٰنًۭا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍۢ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًۭا وَمَأْوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّـٰصِرِينَ ٢٥ ۞ فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٌۭ ۘ وَقَالَ إِنِّى مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٢٦ وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلْكِتَـٰبَ وَءَاتَيْنَـٰهُ أَجْرَهُۥ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ٢٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
جو چیزکسی معاشرہ میں قومی رواج کی حیثیت حاصل کرلے وہ اس کے ہر فرد کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی کے اعتبار سے لوگوں کے درمیان کسی آدمی کی قیمت مقرر ہوتی ہے — قدیم زمانہ میں شرک کی حیثیت اسی قسم کے قومی رواج کی ہو گئی تھی۔
حضرت ابراہیم نے عراق کے لوگوں کو بتایا کہ تم جس بت پرستی کو پکڑے ہوئے ہو وہ محض ایک قومی رواج ہے نہ کہ کوئی واقعی صداقت۔ تمھاری موجودہ زندگی کے ختم ہوتے ہی اس کی ساری اہمیت ختم ہوجائے گی۔ مگر صرف ایک آپ کے بھتیجے لوط تھے جنھوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ قوم آپ کی اتنی دشمن ہوئی کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ تاہم اللہ نے آپ کو بچا لیا۔ آپ کو نہ صرف آخرت کا اعلیٰ انعام ملا بلکہ آپ کو ایسی صالح اولاد دی گئی جس کے اندر چار ہزار سال سے نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ کے بیٹے اسحاق پیغمبر تھے۔ پھر ان کے بیٹے یعقوب پیغمبر ہوئے اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ تک مسلسل اسی خاندان میں پیغمبری کا سلسلہ جاری رہا۔ حضرت ابراہیم کے ایک اور بیٹے مدیان کی نسل میں حضرت شعیب پیداہوئے۔ اسی طرح آپ کے بیٹے اسماعیل خود پیغمبر تھے اور انھیں کی نسل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جن کی پیغمبری قیامت تک جاری ہے۔
حضرت ابراہیم کی اس تاریخ میں باطل پرستوں کےلیے بھی نصیحت ہے اور ان لوگوں کےلیے بھی روشنی ہے جو حق کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔