You are reading a tafsir for the group of verses 28:22 to 28:24
ولما توجه تلقاء مدين قال عسى ربي ان يهديني سواء السبيل ٢٢ ولما ورد ماء مدين وجد عليه امة من الناس يسقون ووجد من دونهم امراتين تذودان قال ما خطبكما قالتا لا نسقي حتى يصدر الرعاء وابونا شيخ كبير ٢٣ فسقى لهما ثم تولى الى الظل فقال رب اني لما انزلت الي من خير فقير ٢٤
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّىٓ أَن يَهْدِيَنِى سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ٢٢ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌۭ كَبِيرٌۭ ٢٣ فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰٓ إِلَى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّى لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَىَّ مِنْ خَيْرٍۢ فَقِيرٌۭ ٢٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت موسیٰ کا یہ سفر گویا نامعلوم منزل کی طرف سفر تھا۔ ایسے حالات میں مومن کے دل کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ پوری طرح آپ کے اوپر طاری تھی۔ آپ دعاؤں کے سایہ میں اپنا قدم آگے بڑھا رہے تھے۔ تقریباً دس دن کے سفر کے بعد مدین پہنچے۔ گمان غالب ہے کہ آپ بھوکے بھی ہوں گے۔

حضرت موسیٰ نے کمزوروں کی حمایت کے جذبہ کے تحت مدین کی دونوں لڑکیوں کی مدد کی۔ یہ واقعہ ان کے ليے لڑکیوں کے والد تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ یہ بزرگ مدیان بن ابراہیم کی اولاد سے تھے اور حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم کی اولاد سے۔ اس اعتبار سے دونوں میں نسلی قربت بھی تھی۔

اس وقت حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ دعا نکلی رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ ایسے وقت مومن کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے معاملہ کو تمام تر اللہ پر ڈال دیتاہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ بندہ کو جو کچھ ملتا ہے خدا سے ملتا ہے، اور خیر وہی ہے جو اس کو خدا کی طرف سے ملے۔