ولما ورد ماء مدين وجد عليه امة من الناس يسقون ووجد من دونهم امراتين تذودان قال ما خطبكما قالتا لا نسقي حتى يصدر الرعاء وابونا شيخ كبير ٢٣
وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌۭ كَبِيرٌۭ ٢٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 23 وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ ”یہ کٹھن اور طویل سفر طے کرنے میں کتنا عرصہ لگا ہوگا اور اس دوران آپ علیہ السلام کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا ‘ اس سب کچھ کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے اور اب بات وہاں سے شروع ہو رہی ہے جب آپ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچ گئے :وَجَدَ عَلَیْہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَز ”آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ کنویں پر لوگوں کا ہجوم تھا اور وہ کنویں سے پانی نکال نکال کر اپنے جانوروں کو پلا رہے تھے۔وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ ج ”ان عورتوں کی بکریاں پیاس کی وجہ سے پانی کی طرف جانے کے لیے بےتاب تھیں لیکن وہ ہجوم چھٹ جانے کے انتظار میں انہیں روکے کھڑی تھیں۔قَالَ مَا خَطْبُکُمَا ط ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنی بکریوں کو ایک طرف کیوں روکے کھڑی ہیں اور انہیں پانی کی طرف کیوں نہیں جانے دیتیں ؟قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَآءُسکۃ ”جب یہ تمام چرواہے اپنے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو اس کے بعد ہی ہم اپنے جانوروں کو پانی پلا سکتے ہیں۔وَاَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ ”یعنی اصل میں تو یہ مردوں کے کرنے کا کام ہے مگر ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں ‘ گھر میں کوئی اور مرد ہے نہیں ‘ چناچہ مجبوراً ہم لڑکیوں کو ہی بکریاں چرانا پڑتی ہیں۔ باقی سب چرواہے مرد ہیں ‘ ہم ان کے ساتھ لڑ جھگڑ کر پانی پلانے کی باری نہیں لے سکتے۔ چناچہ ہم ان کے جانے کا انتظار کرتے ہیں اور ان سب کے چلے جانے کے بعد اپنی بکریوں کو پانی پلاتے ہیں۔