فلما ان اراد ان يبطش بالذي هو عدو لهما قال يا موسى اتريد ان تقتلني كما قتلت نفسا بالامس ان تريد الا ان تكون جبارا في الارض وما تريد ان تكون من المصلحين ١٩
فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّۭ لَّهُمَا قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِٱلْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًۭا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِينَ ١٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 19 فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بالَّذِیْ ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَالا ”حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے تو بڑھے تھے اس قبطی کو پکڑنے کے لیے تاکہ اسے اپنے اسرائیلی بھائی کو مارنے سے روک سکیں ‘ لیکن چونکہ آپ علیہ السلام کے غصے کا رخ اسرائیلی کی طرف تھا اور اس کو سختی سے ڈانٹتے ہوئے آپ علیہ السلام نے اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ کہا تھا ‘ اس لیے وہ سمجھا کہ آپ علیہ السلام اس کی پٹائی کرنا چاہتے ہیں ‘ چناچہ :قَالَ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًام بالْاَمْسِق ”گویا اس نے اپنی حماقت سے بھانڈا ہی پھوڑ دیا کہ کل والا قتل موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ ”گویا اس مکالمے سے اس اسرائیلی نے ثابت کردیا کہ وہ خود ایک منفی سوچ کا حامل اور گھٹیا کردار کا مالک شخص تھا۔