قال افرايتم ما كنتم تعبدون ٧٥ انتم واباوكم الاقدمون ٧٦ فانهم عدو لي الا رب العالمين ٧٧ الذي خلقني فهو يهدين ٧٨ والذي هو يطعمني ويسقين ٧٩ واذا مرضت فهو يشفين ٨٠ والذي يميتني ثم يحيين ٨١ والذي اطمع ان يغفر لي خطييتي يوم الدين ٨٢
قَالَ أَفَرَءَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ ٧٥ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ ٱلْأَقْدَمُونَ ٧٦ فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّۭ لِّىٓ إِلَّا رَبَّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٧٧ ٱلَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ ٧٨ وَٱلَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ ٧٩ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ٨٠ وَٱلَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ ٨١ وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيٓـَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ ٨٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
انسان ایک مستقل ہستی کے طورپر دنیا میں آتاہے۔ اس کے اندر عقل ہے جو خیر اور شر میں فرق کرتی ہے، جو جزئیات سے کلیات اخذ کرتی ہے اور محسوسات سے معقولات تک پہنچ جاتی ہے۔ آدمی کے ليے یہاں نہایت اعلیٰ درجہ پر وہ چیزیں موجود ہیں جو اس کو مسلسل رزق فراہم کرتی ہیں۔ آدمی بیمار ہوتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں وہ اسباب بھی مکمل طورپر موجود ہیں جن سے فن علاج وجود میں آسکے۔ پھر آدمی دیکھتاہے کہ بظاہر ساری آزادی کے باوجود وہ موت کے سامنے بے بس ہے۔ وہ ایک خاص عمر کو پہنچ کر مرجاتاہے۔
ان واقعات کا تعلق ایک خدا کے سوا کسی اور سے نہیں ہوسکتا، پھر کیسے جائز ہے کہ ایک خداکے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے۔ مزید یہ کہ اس معاملے میں آدمی کو حد درجہ سنجیدہ ہونا چاہئے۔ کیوں کہ یہی واقعات یہ اشارہ بھی کررہے ہیں کہ جو خدا یہ سب کررہاہے وہ انسان سے حساب لینے کے ليے اس کو ایک روز اپنے یہاں بلائے گا۔ موت اسی بلاوے کے عمل کا آغاز ہے۔