You are reading a tafsir for the group of verses 26:60 to 26:66
فاتبعوهم مشرقين ٦٠ فلما تراءى الجمعان قال اصحاب موسى انا لمدركون ٦١ قال كلا ان معي ربي سيهدين ٦٢ فاوحينا الى موسى ان اضرب بعصاك البحر فانفلق فكان كل فرق كالطود العظيم ٦٣ وازلفنا ثم الاخرين ٦٤ وانجينا موسى ومن معه اجمعين ٦٥ ثم اغرقنا الاخرين ٦٦
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ ٦٠ فَلَمَّا تَرَٰٓءَا ٱلْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ٦١ قَالَ كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ ٦٢ فَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَ ۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍۢ كَٱلطَّوْدِ ٱلْعَظِيمِ ٦٣ وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ ٱلْـَٔاخَرِينَ ٦٤ وَأَنجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجْمَعِينَ ٦٥ ثُمَّ أَغْرَقْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ ٦٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59)

یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔

واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد دوبارہ مصر میں داخل ہوئے تھے اور مصر کے باغ و راغ اور مال و منال پر قابض ہوگئے تھے۔ اس لئے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال و اقتدار ان کو دے دیا گیا جس طرح فرعونیوں کو دیا گیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک قوم کو زوال دیا اور دوسری کو عروج اور اس عروج میں وہ اگلی قوم کی وارث ہوگئی۔ پہلے مقام کریم اس کے پاس تھا اب اس کے پاس ہے۔

اور عمرانی سزا کے بعد اب ان کی جسمانی سزا اور آخری انجام کا ذکر آتا ہے۔

فاتبعوھم مشرقین ……الاخرین (66)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندوں کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت کے مطابق۔ صبح کے وقت جب فرعون نے دیکھا کہ بنی اسرائیل بھاگ گئے ہیں تو وہ اپنی فوجیں لے کر تعاقب میں نکلا۔ اس تعاقب کے لئے فرعون نے بڑی سخت تدابیر اختیار کر رکھی تھیں اور ان کو پکڑنے کا زبردست انتظام کیا تھا۔ اب یہ منظر اپنی انتہا اور انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ معرکہ اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم ساحل پر پہنچ گئی ہے۔ وہاں کوئی کشتی نہیں ہے۔ بنی اسرائیل نہ سمندر عبور کرسکتے ہیں اور نہ فرعون کے ساتھ جنگ کے لئے کچھ سامان ہے اور فرعون ان کا تعاقب نہایت ساز و سامان سے کر رہا ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی بےرحمانہ اسکیم اس نے تیار کی ہوئی ہے۔

بظاہر حالات یہی بتاتے ہیں کہ اب ان کے بھاگ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ آگے سمندر ہے اور پیچھے سے دشمن بڑھا چلا آ رہا ہے۔

قال اصحب موسیا نا لمدرکون (26 : 61) ” موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔ ‘ اہل ایمان کی بےچینی اب انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب تو چند منٹوں کی بات ہے کہ لشکر فرعون انہیں قتل کرے یا گرفتار کرے اور اس سے بظاہر چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔

لیکن حضرت حضرت موسیٰ کا رابطہ تو عالم بالا سے قائم تھا۔ وحی مسلسل آرہی تھی۔ ان کا کاسہ دل اطمینان سے لبالب تھا۔ پوری طرح یقین تھا کہ اللہ کوئی صورت نکالنے والا ہے۔ مدد کی کوئی سبیل نکل آئیگی۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ نجات ملے گی۔ اگرچہ انہیں بھی معلوم نہ تھا کہ بات کیا ہوگی۔ البتہ یقین تھا کہ نجات یقینی ہے۔ کیونکہ یہ سب منصوبہ اللہ کا تیار کردہ ہے۔

قال کلا ان معی ربی سیھدین (26 : 62) ” موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ، میرا رب ہے ، وہ ضرور میری اہنمائی فرمائے گا۔ “ لفظ کلا ایسی جگہ استعمال ہوتا ہے ، جہاں شدید تاکید کے ساتھ نفی مطلوب ہو۔ یعنی تم ہرگز نہ پکڑے جائو گے اور تم ہرگز کسی فتنے میں نہ پڑو گے۔ ہرگز اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا۔ میرے ساتھ میرا رب ہے ، وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔ حضرت موسیٰ بڑی تاکید ، اعتماد اور یقین کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مایوسی کے ان اندھیروں میں اچانک روشنی کی ایک کرن نمودار ہوتی ہے۔ نجات کی راہ اس طرف سے ملتی ہے جس طرف سے کوئی امید نہ تھی۔

فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر (26 : 63) ” ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ ” مار اپنا عصا سمندر پر “۔ اب سیاق کلام میں آگے یہ نہیں کہا جاتا کہ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا بلکہ نتیجہ ہی جلدی سے ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔

فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم (26 : 63) ” یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم پہاڑ کی طرح ہوگ یا۔ “ یہ معجزہ واقع ہوگیا اور لوگ جس بات کو محال کہتے تھے ، وہ ہوگئی کیونکہ ان کا قیاس تو روزمرہ کے معمول کے واقعات پر تھا اور یہ روزہ مرہ کے واقعات بھی تو اللہ کی قدرت کے پیدا کردہ اصولوں کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور یہ ان اصولوں کے مطابق تب تک چلتے ہیں جب تک اللہ چاتہا ہے۔ اللہ کا حکم یوں ہوا کہ پانی راستوں کے دونوں طرف تو دوں کی طرح کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل گھس کر دریا پار کر گئے۔

فرعون اپنی افواج کے ساتھ دوسری جانب ششدر کھڑا رہ گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ یہ معجزہ دیھکا۔ لازم ہے کہ کچھ دیر کے لئے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہوگا ۔ وہ دیکھ رہا ہوگا کہ موسیٰ اور ان کی قوم وہ گئے اور پار ہوگئے۔ اس نے بہرحال اپنی افواج کو اس راستے میں گھس جانے سے بل سوچا تو ہوگا کیونکہ یہ ایک عجیب عمل تھا۔

اللہ کی اس تدبیر سے بنی اسرائیل دوسری طرف نکل گئے۔ ابھی تک پانی دو ٹکڑے ہی تھا اور فرعون اور اس کا لشکر پانی کے اندر ہی تھے کہ اللہ نے ان کا انجام قریب کردیا۔

واز لفناثم ……الاخرین (66) (26 : 63 تا 66) ” اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جوان کے ساتھ تھے ، ہم نے بچا لیا اور وہ دوسروں کو غرق کردیا۔ “ یہ معجزہ ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ صدیوں تک وہ اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ کیا اس پر زیادہ لوگ ایمان لے آتے ؟