جادوگروں کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا فرعون کے ليے زبردست رسوائی کا باعث تھا۔ اس نے اس کے ازالہ کے ليے یہ کیا کہ اس پورے واقعہ کو سازش قرار دے دیا۔ اس نے کہا کہ تم لوگ موسیٰ کے ساتھ ملے ہوئے ہو۔ اور تم نے جان بوجھ کر ان کے مقابلہ میں اپنی شکست کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ موسیٰ کی بڑائی لوگوں کے دلوں پر قائم ہو اور تمھارے ليے اپنا مقصد حاصل کرنا آسان ہوجائے۔ فرعون نے جادوگروں کو اپنا یہ فیصلہ سنایا کہ تم لوگوں کو بغاوت کی سزا دی جائے گی۔ تمھارے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ کر تم کو برسر عام سولی پر چڑھا دیا جائے گا۔ اس شدید حکم کے باوجود جادو گر بے ہمت نہیں ہوئے۔ وہی جادو گر جو پہلے (آیت