قالوآ ارجہ واخاہ وابعث فی المدآئن حشیرین (36) یاتوک بکل سحار علیم (7) 3
یعنی ان کو اور ان کے بھائی کو روک لیں اور مصر کے بڑے بڑے شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔ ماہر ترین جادوگروں کو جمع کرلیں اور حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان کھلا مقابلہ ہو۔
یہاں وہ گرتا ہے اور پھر جادوگروں کے گروہ نمودار ہوتے ہیں اور عوام الناس مقابلے کے لئے دوڑے آ رہے ہیں ۔ بادشاہ اور بادشاہ کے حامی عوام جادوگروں کے حق میں نعرے لگاتے آ رہے ہیں۔ اب حق و باطل کے درمیان کھلا مقابلہ ہے۔ ایمان اور کفر کے درمیان رسہ کشی شروع ہوتی ہے۔