You are reading a tafsir for the group of verses 26:29 to 26:31
قال لين اتخذت الاها غيري لاجعلنك من المسجونين ٢٩ قال اولو جيتك بشيء مبين ٣٠ قال فات به ان كنت من الصادقين ٣١
قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِى لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ ٱلْمَسْجُونِينَ ٢٩ قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىْءٍۢ مُّبِينٍۢ ٣٠ قَالَ فَأْتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ٣١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 29 قَالَ لَءِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰہًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ”صورت حال فرعون کی برداشت سے باہر ہوگئی تو اس کا غصہ اور مطلق العنانیت کا جلال اس کیّ خفت پر غالب آگیا۔ اس کیفیت میں اس نے گرجتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دھمکی دی ‘ مگر یہ قتل کے بجائے صرف جیل میں ڈالنے کی دھمکی تھی۔ اس سے یوں لگتا ہے جیسے ابھی تک فرعون کے دل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے کوئی نرم گوشہ موجود تھا اور یہ بالکل فطری بات تھی ‘ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بچپن کا ساتھی تھا۔ دونوں اکٹھے کھیلے اور ایک ساتھ پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے اس کے بڑے بھائی کی طرح تھے۔