You are reading a tafsir for the group of verses 26:23 to 26:32
قال فرعون وما رب العالمين ٢٣ قال رب السماوات والارض وما بينهما ان كنتم موقنين ٢٤ قال لمن حوله الا تستمعون ٢٥ قال ربكم ورب ابايكم الاولين ٢٦ قال ان رسولكم الذي ارسل اليكم لمجنون ٢٧ قال رب المشرق والمغرب وما بينهما ان كنتم تعقلون ٢٨ قال لين اتخذت الاها غيري لاجعلنك من المسجونين ٢٩ قال اولو جيتك بشيء مبين ٣٠ قال فات به ان كنت من الصادقين ٣١ فالقى عصاه فاذا هي ثعبان مبين ٣٢
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٢٣ قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ٢٤ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُۥٓ أَلَا تَسْتَمِعُونَ ٢٥ قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ ٢٦ قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ ٱلَّذِىٓ أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌۭ ٢٧ قَالَ رَبُّ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ ٢٨ قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذْتَ إِلَـٰهًا غَيْرِى لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ ٱلْمَسْجُونِينَ ٢٩ قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىْءٍۢ مُّبِينٍۢ ٣٠ قَالَ فَأْتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ٣١ فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌۭ مُّبِينٌۭ ٣٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

تمھارا رب العالمین کیا ہے— فرعون کا یہ جملہ دراصل استہزاء تھا، نہ کہ سوال۔ مگر حضرت موسیٰ نے کسی جھنجھلاہٹ کے بغیر بالکل معتدل انداز میں اس کا جواب دیا۔ فرعون نے دوبارہ اپنے درباریوں سے یہ کہہ کر حضرت موسیٰ کی تحقیر کی کہ ’’سنتے ہو، یہ کیا کہہ رہے ہیں‘‘۔ حضرت موسیٰ نے اس کوبھی نظر انداز کیا اور اپنا سلسلہ کلام بدستور جاری رکھا۔ فرعون نے مشتعل ہو کر حضرت موسیٰ کو دیوانہ قرار دیا۔ مگر اب بھی حضرت موسیٰ نے اپنے اعتدال کو نہیں کھویا۔ فرعون نے قید کی دھمکی دی تو حضرت موسیٰ نے اپنی آخری دلیل (معجزہ) کو اس کے سامنے رکھ دیا۔ اب فرعون کے ليے مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہ تھی۔ مگر اس نے ہار نہ مانی۔ اس نے حضرت موسیٰ کی اہمیت گھٹانے کے ليے کہا کہ یہ کوئی خدائی واقعہ نہیں۔ یہ تو محض ایک ساحرانہ واقعہ ہے۔ اور ہر جادو گر ایسا کرشمہ دکھا سکتا ہے۔

حضرت موسیٰ کی دعوت سراسر پر امن دعوت تھی۔ اس کا سیاست اور حکومت سے بھی براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ مگر فرعون نے اپنی قوم کو آپ کے خلاف بھڑکانے کے ليے یہ کہہ دیا کہ وہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ فرعون کی غیر سنجیدگی اسی سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ نے تو خود اپنی قوم کو ساتھ لے کر مصر سے باہر جانے کی بات کی تھی۔ مگر فرعون نے اس کو الٹ کر یہ کہہ دیا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔