هل انبيكم على من تنزل الشياطين ٢٢١ تنزل على كل افاك اثيم ٢٢٢ يلقون السمع واكثرهم كاذبون ٢٢٣ والشعراء يتبعهم الغاوون ٢٢٤ الم تر انهم في كل واد يهيمون ٢٢٥ وانهم يقولون ما لا يفعلون ٢٢٦ الا الذين امنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا وانتصروا من بعد ما ظلموا وسيعلم الذين ظلموا اي منقلب ينقلبون ٢٢٧
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَـٰطِينُ ٢٢١ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍۢ ٢٢٢ يُلْقُونَ ٱلسَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَـٰذِبُونَ ٢٢٣ وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلْغَاوُۥنَ ٢٢٤ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍۢ يَهِيمُونَ ٢٢٥ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ٢٢٦ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًۭا وَٱنتَصَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ ۗ وَسَيَعْلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَىَّ مُنقَلَبٍۢ يَنقَلِبُونَ ٢٢٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
پیغمبر کے کلام میں غیر معمولی پن اتنا نمایاں تھا کہ پیغمبر کے منکرین بھی اس کی تردید نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے کہ یہ کاہن اور عامل ہیں اور ان کے کلام میں جو غیر معمولی پن ہے، وہ کاہن اور عامل ہونے کی بنا پر ہے،نہ کہ پیغمبر ہونے کی بنا پر۔ اسی طرح وہ قرآن کو شاعرکا کلام بتاتے تھے۔ فرمایا کہ اس بات کی تردید کے لیے یہی کافی ہے کہ پیغمبر کا اور کاہنوں اور شاعروں کا مقابلہ کرکے دیکھا جائے۔ دونوں کی زندگی میں اتنا زیادہ فرق ملے گا کہ کوئی سنجیدہ آدمی ہر گز ایک کو دوسرے پر قیاس نہیںکرسکتا۔
شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے، نہ کہ حقائق وواقعات پر۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر لوگ ہمیشہ خیالات کی دنیا میں پرواز کرتے ہیں۔ وہ کبھی ایک قسم کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی دوسرے قسم کی۔ اس کے برعکس، پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں جو سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ان کی زندگیاں قول وعمل کی یکسانیت کی مثالیں ہیں۔ اللہ کی گہری معرفت نے ان کو اللہ کی یاد کرنے والا بنا دیا ہے۔ ان کی احتیاط اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ اگر کسی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو صرف اس وقت کرتے ہیں جب کہ اس نے ان کے اوپر صریح ظلم کیا ہو۔ مستقبل کی نزاکت آدمی کو اس کے حال کے بارے میں سنجیدہ بنادیتی ہے— جو شخص مستقبل کے بارے میں حساس نہ ہو وہ حال کے بارے میں بھی حساس نہیں ہوسکتا۔