فلا تدع مع الله الاها اخر فتكون من المعذبين ٢١٣ وانذر عشيرتك الاقربين ٢١٤ واخفض جناحك لمن اتبعك من المومنين ٢١٥ فان عصوك فقل اني بريء مما تعملون ٢١٦ وتوكل على العزيز الرحيم ٢١٧ الذي يراك حين تقوم ٢١٨ وتقلبك في الساجدين ٢١٩ انه هو السميع العليم ٢٢٠
فَلَا تَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلْمُعَذَّبِينَ ٢١٣ وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ ٱلْأَقْرَبِينَ ٢١٤ وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٢١٥ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ٢١٦ وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ ٢١٧ ٱلَّذِى يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ ٢١٨ وَتَقَلُّبَكَ فِى ٱلسَّـٰجِدِينَ ٢١٩ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٢٢٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
اللہ کے سواکسی اور کو معبود بنانا اللہ کی نظر میں بہت بڑا جرم ہے۔ اس کے ارتکاب کے بعد کوئی شخص سزا سے بچ نہیں سکتا۔ حتی کہ وہ شخص بھی نہیں جو زبان وقلم سے توحید کا علم بردار بناہوا ہو۔ داعی کا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو پوری طرح شرک سے بچاتے ہوئے لوگوں کو حق کی طرف بلائے، جن میں اس کے قریبی لوگ بدرجہ اولیٰ شامل ہیں۔
حق کا ساتھ دینے کے ليے اپنی بڑائی کے بت کو توڑنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے لوگوں میں بہت کم ایسے افراد نکلتے ہیں جو حق کا ساتھ دینے کے ليے تیار ہوں۔ زیادہ تر ایسا ہوتاہے کہ حق کا ساتھ دینے کے ليے وہ لوگ اٹھتے ہیں جو سماج میں کمتر حیثیت رکھتے ہوں۔ یہ واقعہ داعی کے ليے سخت امتحان ہوتا ہے۔داعی کو اس سے بچنا پڑتا ہے کہ دوسروں کی طرح وہ بھی انھیں حقیر سمجھے، جو لوگ غیر اسلامی سماج میں حقیر بنے ہوئے تھے وہ اسلامی حلقہ میں آکر بھی بدستور حقیر بنے رہیں۔
داعی وہ ہے جس کا خدا سے تعلق اتنا بڑھا ہوا ہو کہ رات کی تنہائیوں میں وہ بے قرار ہو کر اپنے بستر سے اٹھ کھڑا ہو۔ اپنے سجدہ گزار ساتھیوں کی قیمت اس کی نظر میں اتنی زیادہ ہو کہ وہ انھیں کو اپنی دلچسپیوں کا مرکز بنالے۔