You are reading a tafsir for the group of verses 26:204 to 26:207
افبعذابنا يستعجلون ٢٠٤ افرايت ان متعناهم سنين ٢٠٥ ثم جاءهم ما كانوا يوعدون ٢٠٦ ما اغنى عنهم ما كانوا يمتعون ٢٠٧
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ٢٠٤ أَفَرَءَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـٰهُمْ سِنِينَ ٢٠٥ ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُوا۟ يُوعَدُونَ ٢٠٦ مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يُمَتَّعُونَ ٢٠٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

افبعذابنا ……یمتعون (208)

ایک طرف ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس میں شتابی ہے اور دوسری جانب عذاب کا نزول ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ عیش و عشرت کی جو طویل زندگی وہ بسر کر رہے تھے وہ گویا تھی ہی نہیں۔ اس پوری زندگی میں انکے لئے کوء فائدہ نہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی ایسا عمل ہوگا جس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو۔

ایک صحیح حدیث میں ہے ” کافر کو لایا جائے گا اور آگ میں اسے ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی بھلائی (اور آرام) دیکھا بھی ہے ؟ کیا تم نے کوئی خوشحالی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں خدا کی قسم پروردگار میں نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اور پھر ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بدترین حالات میں تھا اور اسے جنت کا ایک رنگ دکھایا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا۔ کیا تو نے برے دن بھی کبھی دیکھے ہیں ؟ تو وہ کہے گا خدا کی قسم اے رب ذوالجلال ! مجھ پر تو برے دن کبھی آئے ہی نہیں۔ (ابن کثیر)

اس کے بعد ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ یہ جو تمہیں خبردار کیا جا رہا ہے تو اس لئے کہ تم پر ہلاکت بڑی تیزی سے آرہی ہے اور اللہ کی رحمت کا تو یہ تقاضا ہے کہ کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہ کرے جب تک رسول نہ آئے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔