You are reading a tafsir for the group of verses 25:63 to 25:67
وعباد الرحمان الذين يمشون على الارض هونا واذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما ٦٣ والذين يبيتون لربهم سجدا وقياما ٦٤ والذين يقولون ربنا اصرف عنا عذاب جهنم ان عذابها كان غراما ٦٥ انها ساءت مستقرا ومقاما ٦٦ والذين اذا انفقوا لم يسرفوا ولم يقتروا وكان بين ذالك قواما ٦٧
وَعِبَادُ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى ٱلْأَرْضِ هَوْنًۭا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلْجَـٰهِلُونَ قَالُوا۟ سَلَـٰمًۭا ٦٣ وَٱلَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًۭا وَقِيَـٰمًۭا ٦٤ وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ٦٥ إِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّۭا وَمُقَامًۭا ٦٦ وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُوا۟ لَمْ يُسْرِفُوا۟ وَلَمْ يَقْتُرُوا۟ وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًۭا ٦٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

’’چلنا‘‘ پوری شخصیت کی علامت ہے۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کا یقین اتر جائے وہ سراپا عجز وتواضع بن جاتے ہیں۔ خدا کا خوف ان سے بڑائی کا احساس چھین لیتاہے۔ ان کا چلنا پھرنا اور رہنا سہنا ایسا ہوجاتا ہے جس میں عبدیت کی روح پوری طرح سمائی ہوئی ہو۔

رحمن کے بندوں کا معاملہ اگر صرف اتنا ہی ہو تو کوئی بھی ان سے نہ الجھے۔ مگر خدا کی معرفت انھیں خدا کا داعی بھی بنا دیتی ہے۔ بس یہیںسے ان کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہوجاتاہے۔ ان کا اعلان حق باطل پرستوں کے ليے ناقابل برداشت ہوجاتاہے اور وہ ان سے ٹکرانے کے ليے آجاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی خدا کا خوف انھیں جوابی ٹکراؤ سے روک دیتاہے۔ وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے ہوئے ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔

خدا کی معرفت ہی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ ان کی زندگی میںایک کبھی نہ ختم ہونے والی بے چینی شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نہ صرف دن کے وقت خدا کو بے تابانہ پکارتے رہتے ہیں بلکہ ان کی راتوں کی تنہائیاں بھی خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتی ہیں۔

اسی طرح خدا کا احساس انھیں حد درجہ محتاط بنا دیتاہے۔ وہ ذمہ دارانہ طورپر کماتے ہیں اور ذمہ دارانہ طورپر خرچ کرتے ہیں۔ خداکے آگے جواب دہی کا احساس انھیں اپنے آمد وخرچ کے معاملے میں معتدل اور محتاط بنا دیتاہے۔ حدیث میں آتاہے کہ یہ آدمی کی دانائی میں سے ہے کہ وہ اپنی معیشت میں بیچ کی راہ اختیار کرے (مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 21695۔ رفقہ ای قصدہ۔