واذا قيل لهم اسجدوا للرحمان قالوا وما الرحمان انسجد لما تامرنا وزادهم نفورا ۩ ٦٠
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسْجُدُوا۟ لِلرَّحْمَـٰنِ قَالُوا۟ وَمَا ٱلرَّحْمَـٰنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًۭا ۩ ٦٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 60 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِج قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُق ” مشرکین مکہّ کے لیے اللہ کا لفظ تو معروف تھا مگر رحمن سے وہ واقف نہیں تھے۔ چناچہ وہ حضور ﷺ پر یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ اللہ کے بجائے آپ رحمن کا نام کیوں لیتے ہیں ؟ یہ نیا نام ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا ”یعنی ہم آپ ﷺ کے کہنے پر اسے سجدہ کیوں کریں ؟ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے آپ ﷺ کی بات تسلیم کرلی اور آپ ﷺ جیت گئے۔ یہی وہ ضد ہے جسے قرآن میں ”شِقَاق“ کہا گیا ہے۔ اس ضد اور تعصب میں وہ لوگ آپ ﷺ کی مبنی بر حقیقت بات بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔وَزَادَہُمْ نُفُوْرًا ”یعنی اس طرح حق سے ان کی نفرت مزید بڑھ رہی ہے اور ان کے جذبۂ فرار میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔