ويعبدون من دون الله ما لا ينفعهم ولا يضرهم وكان الكافر على ربه ظهيرا ٥٥ وما ارسلناك الا مبشرا ونذيرا ٥٦ قل ما اسالكم عليه من اجر الا من شاء ان يتخذ الى ربه سبيلا ٥٧
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ ۗ وَكَانَ ٱلْكَافِرُ عَلَىٰ رَبِّهِۦ ظَهِيرًۭا ٥٥ وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ إِلَّا مُبَشِّرًۭا وَنَذِيرًۭا ٥٦ قُلْ مَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَن شَآءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًۭا ٥٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
خدا نے انسان کو ایسی دنیا میں رکھا ہے جہاں کی ہر چیز اور اس کا پورا ماحول توحید کی گواہی دیتا ہے۔ مگر انسان اس سے روشنی حاصل نہیں کرتا۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک جاتا ہے کہ وہ توحید کے بجائے شرک کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نظام بناتا ہے۔ اور جب کوئی خدا کا بندہ انسانوں کو توحید کی طرف پکارنے کے ليے اٹھے تو وہ دعوت توحید کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔
تاہم حق کے داعی کو جارحیت کی حد تک جانے کی اجازت نہیں۔اس کو صرف تلقین اور نصیحت کے دائرہ میں اپنا کام جاری رکھنا ہے۔ اگر دعوت کار گر نہ ہورہی ہو تو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ دعوت پر جارحیت کا اضافہ کرے۔ اسے جس چیز کا اضافہ کرنا ہے وہ ہے — خدا سے دعا، ہر قسم کے مادی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا، بے غرضی اور اخلاق کے ذریعہ مخاطب کے دل کو متاثر کرنا۔