ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان کے سایہ کے نیچے اللہ کے سوا پوجے جانے والے معبودں میں سب سے زیادہ سنگین اللہ کے نزدیک وہ خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے( مَا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْ إِلَهٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ أَعْظَمُ مِنْ عِنْدِ اللهِ مِنْ هَوًى مُتَّبَعٍ )المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7502۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بڑا بت آدمی کی خواہش نفس ہے۔ بلکہ یہی اصل بت ہے۔ بقیہ تمام بت صرف خواہش پرستی کے دین کو جائز ثابت کرنے کے ليے وضع کيے گئے ہیں۔
خواہش کو اپنا رہبر بنانے کے بعد انسان اسی سطح پر آجاتا ہے جو جانوروں کی سطح ہے۔ جانور سوچ کر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ صرف جبلّی تقاضے کے تحت کرتے ہیں۔ اب اگر انسان بھی اپنے سوچنے کی صلاحیت کو کام میں نہ لائے اور صرف خواہش نفس کے تحت چلنے لگے تو اس میں اور جانور میں کیا فرق باقی رہا۔