You are reading a tafsir for the group of verses 25:41 to 25:42
واذا راوك ان يتخذونك الا هزوا اهاذا الذي بعث الله رسولا ٤١ ان كاد ليضلنا عن الهتنا لولا ان صبرنا عليها وسوف يعلمون حين يرون العذاب من اضل سبيلا ٤٢
وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا ٱلَّذِى بَعَثَ ٱللَّهُ رَسُولًا ٤١ إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ ءَالِهَتِنَا لَوْلَآ أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا ۚ وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ ٱلْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا ٤٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

’’اگر ہم جمے نہ رہتے تو وہ ہم کو ہمارے دین سے ہٹا دیتا‘‘— اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اپنے دین پر قائم رہنے کی وجہ ان کا تعصب تھا نہ کہ کوئی دلیل۔ دلیل کے میدان میں وہ بے ہتھیار ہوچکے تھے۔ مگر تعصب کے بل پر وہ اپنے آبائی دین پر جمے رہے۔ یہی اکثر انسانوں کا حال ہوتا ہے۔ بیشتر انسان محض تعصب کی زمین پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگرچہ زبان سے وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دلیل کی زمین پر کھڑے ہوئے ہیں۔

کسی دعوت کا مقابلہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے اس کو دلیل سے رد کرنا۔ دوسراہے اس کا مذاق اڑانا۔ پہلا طریقہ جائز ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز۔ جو لوگ کسی دعوت کا مذاق اڑائیں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنی بازی ہار چکے ہیں۔ اور اب مذاق اور استہزاء کی باتوں سے اپنی ہارپر پرده ڈالنا چاہتے ہوں۔