You are reading a tafsir for the group of verses 24:63 to 24:64
لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا قد يعلم الله الذين يتسللون منكم لواذا فليحذر الذين يخالفون عن امره ان تصيبهم فتنة او يصيبهم عذاب اليم ٦٣ الا ان لله ما في السماوات والارض قد يعلم ما انتم عليه ويوم يرجعون اليه فينبيهم بما عملوا والله بكل شيء عليم ٦٤
لَّا تَجْعَلُوا۟ دُعَآءَ ٱلرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُم بَعْضًۭا ۚ قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًۭا ۚ فَلْيَحْذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِۦٓ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ٦٣ أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ ٦٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

یہاں جس اطاعتِ رسول کا ذکر ہے اس کا تعلق رسول کی زندگی میں رسول سے تھا۔ رسول کے بعد اس کا تعلق ہر اس شخص سے ہے جو مسلمانوں کے معاملہ کا ذمہ دار بنایا جائے۔

اجتماعی معاملات میں اپنا حصہ ادا کرنے سے جو لوگ کترائیں وہ بطور خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اجتماعی کام میں وقت ضائع نہ کرکے اپنے انفرادی معاملہ کو مضبوط کررہے ہیں۔ مگر جو گروہ اجتماعیت کو کھو دے اس کے دشمن اس کے اندر گھسنے کی راہ پالیتے ہیں۔ اس طرح جو بربادی آتی ہے وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے عمومی بربادی ہوتی ہے۔ اس کا نقصان ہر ایک کو پہنچتا ہے، حتی کہ اس کو بھی جو یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے ذاتی معاملات میں پوری توجہ لگا کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیا ہے۔

آدمی جب اس قسم کی کمزوری دکھاتا ہے تو بطور خود وہ سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے انسانوں کے ساتھ کررہاہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جو کچھ کرر ہا ہوتا ہے وہ خدا کے ساتھ کررہا ہوتاہے۔ اگر یہ احساس زندہ ہو تو آدمی کبھی اس قسم کی بے اصولی کی جرأت نہ کرے۔