انما كان قول المومنين اذا دعوا الى الله ورسوله ليحكم بينهم ان يقولوا سمعنا واطعنا واولايك هم المفلحون ٥١
إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٥١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

(انما کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم المفلحون) (51) ” ان لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ بلاچون و چرا اور بغیر کسی ذرہ بھر انحراف کے وہ سمع و اطاعت کرتے ہیں۔ یہ سمع و اطاعت وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں پورا اعتماد وپرا یقین ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ہی حقیقی فیصلہ ہے اور اس میں مطلق عدل و انصاف ہے۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ خواہشات نفسانیہ پر مبنی ہے۔ یہ سمع و اطاعت وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی اللہ زندگی بخشنے والا ہے ‘ یہی اللہ اس کائنات میں متصرف ہے اور ان کو اس بات پر اطمینان حاصل ہے کہ اللہ لوگوں کے لیے جو چاہتے ہیں وہی بہتر ہے بہ نسبت اس کے ‘ جو لوگ خود اپنے لیے چاہتے ہیں کیونکہ وہ ذات جس نے پیدا کیا وہ اپنی مخلوق کے بارے میں بہتر جانتی ہے۔

واولئک ھم المفلحون (24 : 51) ” ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ یہ فلاح پانے والے اس لیے ہیں کہ ان کے امور کی تدبیر خالق کائنات ہی کرتا ہے اور ان کے باہم تعلق کو وہی منظم کرتا ہے۔ اپنے علم اور عدل کے ساتھ وہ ان کے درمیان وہی فیصلے کرتا ہے۔ اس لیے ان کو ان لوگوں سے بہتر ہونا چاہیے جو اپنے امور کے فیصلے خود کرتے ہیں یا ان جیسے افراد کرتے ہیں۔ یہ لوگ اور خود ان کے بھائی دوسرے بشر وہ علم و حکمت نہیں رکھتے جو اللہ رکھتا ہے۔ پھر وہ اس لیے بھی کامیاب ہوں گے کہ وہ ایک ہی منہاج پر چل رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ اور مقم نہیں ہے۔ وہ اپنے اس منہاج پر مطمئن ہیں۔ وہ اس منہاج پر چل رہے ہیں۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتے۔ لہٰذا ان کی قوتیں منتشر نہیں ہوتیں ‘ ان کی خواہشات کے اندر کوئی تضاد نہیں ہے۔ خواہشات اور مفادات کے ہاتھ میں ان کی نکیل نہیں ہوتی بلکہ ان کی نکیل اسلامی منہاج کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ ان کے آگے ہوتا ہے اور یہ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔