You are reading a tafsir for the group of verses 24:41 to 24:42
الم تر ان الله يسبح له من في السماوات والارض والطير صافات كل قد علم صلاته وتسبيحه والله عليم بما يفعلون ٤١ ولله ملك السماوات والارض والى الله المصير ٤٢
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱلطَّيْرُ صَـٰٓفَّـٰتٍۢ ۖ كُلٌّۭ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُۥ وَتَسْبِيحَهُۥ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَفْعَلُونَ ٤١ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلْمَصِيرُ ٤٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

انسان سے خدا کا جو مطالبہ ہے اس کو لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہے کہ انسان ویسا ہی رہے جیسا کہ از روئے حقیقت اسے رہنا چاہيے۔ یہی دین حق ہے۔ اس اعتبار سے ساری کائنات دین حق پر ہے۔ کیوں کہ اس کائنات کی ہر چیز عین اسی طرح عمل کرتی ہے جیسا کہ فی الواقع اسے عمل کرنا چاہيے۔ انسان کے سوا اس کائنات میں کوئی بھی چیزنہیں جس کے عمل میں اور حقیقت واقعہ میں کوئی ٹکراؤ ہو۔

انھیں بے شمار چیزوں میں سے ایک مثال چڑیا کی ہے۔ چڑیا جب اپناپر پھیلائے ہوئے فضا میں اڑتی ہے تو وہ اسی حقیقت کا ایک کامل نمونہ ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ ابدی حقیقت کی دنیا میں کامل موافقت کرکے تیر رہی ہو۔ گویا اس نے اپنے انفرادی وجود کو حقائق کے وسیع تر سمندر میں گم کردیا ہو۔

ہر ایک کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہی اس سے مطلوب ہے۔ اسی طرح انسان کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہ اس سے مطلوب ہے۔ انسان اگر اس معاملہ میں غفلت یا سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو اس وقت اس کو اس کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جب خدا کے ساتھ اس کا سامنا پیش آئے گا۔