You are reading a tafsir for the group of verses 24:19 to 24:20
ان الذين يحبون ان تشيع الفاحشة في الذين امنوا لهم عذاب اليم في الدنيا والاخرة والله يعلم وانتم لا تعلمون ١٩ ولولا فضل الله عليكم ورحمته وان الله رءوف رحيم ٢٠
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلْفَـٰحِشَةُ فِى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ١٩ وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ وَأَنَّ ٱللَّهَ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ ٢٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اس آیت میں ’’فاحشہ‘‘ کی اشاعت سے مراد اسی چیز کی اشاعت ہے جس کو اوپر آیت نمبر 11 میں اِفک کہا گیا ہے۔ یعنی کسی کے خلاف بے بنیاد الزام وضع کرنا اور اس کو لوگوں کے اندر پھیلانا۔

بات کہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی صرف وہ بات اپنے منه سے نکالے جس کے حق میں اس کے پاس فی الواقع کوئی مضبوط دلیل ہو، جو شرعی طورپر ثابت کی جاسکے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی حقیقی بنیاد کے بغیر خود اپنے ذہن سے بات گھڑنا اور اس کو لوگوں سے بیان کرنا۔ پہلا طریقہ جائز طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ سراسر ناجائز طریقہ۔

عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے مخالف کے بارے میں کوئی بات ہو تو آدمی اس کی زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ بلا بحث اس کو مان لیتا ہے اور دوسروں سے اس کو بیان کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ فعل ہے بلکہ وہ بہت بڑا جرم ہے۔ وہ دنیا میں بھی قابل سزا ہے اور آخرت میں بھی۔