You are reading a tafsir for the group of verses 24:12 to 24:13
لولا اذ سمعتموه ظن المومنون والمومنات بانفسهم خيرا وقالوا هاذا افك مبين ١٢ لولا جاءوا عليه باربعة شهداء فاذ لم ياتوا بالشهداء فاولايك عند الله هم الكاذبون ١٣
لَّوْلَآ إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًۭا وَقَالُوا۟ هَـٰذَآ إِفْكٌۭ مُّبِينٌۭ ١٢ لَّوْلَا جَآءُو عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ ۚ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا۟ بِٱلشُّهَدَآءِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ عِندَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْكَـٰذِبُونَ ١٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان کرے۔ دوسرے کے بارے میں بدگمانی کرنا خود اپنے بد نفسی کا ثبوت ہے۔ اور دوسرے کے بارے میں نیک گمان کرنااپنی نیک نفسی کا ثبوت۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی کے بارے میں بری خبر دے تو فوراً اس سے ثبوت کا مطالبہ کیا جائے۔ جو شخص سنے وہ محض سن کر اس کو دہرانے نہ لگے بلکہ وہ خبر دینے والے سے کہے کہ اگر تم سچے ہو تو شریعت کے مطابق گواہ لے آؤ۔ اگر وہ گواہ لے آئے تو اس کی بات قابلِ لحاظ ہوسکتی ہے۔ اور اگر وہ اپنی بات کے حق میں گواہ نہ لائے تو وہ خود سب سے بڑا مجرم ہے۔ کیوں کہ کسی شخص کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ بلا ثبوت کسی کے اوپر عیب لگانے لگے۔