You are reading a tafsir for the group of verses 23:96 to 23:98
ادفع بالتي هي احسن السيية نحن اعلم بما يصفون ٩٦ وقل رب اعوذ بك من همزات الشياطين ٩٧ واعوذ بك رب ان يحضرون ٩٨
ٱدْفَعْ بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ ٱلسَّيِّئَةَ ۚ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ ٩٦ وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَٰتِ ٱلشَّيَـٰطِينِ ٩٧ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ ٩٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

خدا کا داعی جب لوگوں کو حق کی طرف بلاتا ہے تو اکثر ایسا ہوتاہے کہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف جھوٹے پروپيگنڈے کرتے ہیں۔ وہ اس کو اپنے شرکا نشانہ بناتے ہیں۔ اس وقت داعی کے اندر بھی جوابی ذہن ابھرتا ہے۔ اس کے دل میں یہ خیال آتاہے کہ جن لوگوں نے تمھارے ساتھ برا سلوک کیا ہے تم بھی ان کے ساتھ برا سلوک کرو۔ اگر تم خاموش رہے تو ان کے حوصلے بڑھیں گے اور وہ مزید مخالفانہ کارروائی کرنے کے ليے دلیر ہوجائیں گے۔

مگر اس قسم کے خیالات شیطان کا وسوسہ ہیں۔ شیطان اس نازک موقع پر آدمی کو بہکاتا ہے تاکہ اس کو راہ سے بے راہ کردے۔ ایسے موقع پر داعی اور مومن کو چاہيے کہ وہ شیطانی بہکاووں کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے نہ کہ شیطانی بہکاووں کو مان کر اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے لگے۔