وان الذين لا يومنون بالاخرة عن الصراط لناكبون ٧٤
وَإِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ عَنِ ٱلصِّرَٰطِ لَنَـٰكِبُونَ ٧٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

وان الذین لا یومنون بالا خرۃ عن الصراط لنکبون (23 : 73) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں “۔ اگر یہ ہدایت پر ہوتے تو وہ اپنے دل دماغ اس زندگی پر غور کرتے ، جس کے نتیجے میں انسانی حتمی طور پر آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ ایک ایسے جہان کا وہ ضرور قائل ہوجاتا ہے جس میں یہ زندگی اپنی نہایت ہی مکمل حالت میں ہوگی اور جس کے اندر لوگوں کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا کیونکہ آخرت ناموس کائنات کا ایک آخری حلقہ ہے جس میں اللہ کی تدبیر کائنات اپنے اختتام کو پہنچے گی ۔

یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ، جو رراہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں اگر ان کو بہت دولت دی جائے اور آزمایا جائے تو بھی وہ راہ راست پر نہیں آتے اور اگر ان کو مشکلات سے دو چار کر کے آزمایا جائے تو بھ راہ راست پر نہیں آتے۔ اگر ان کو نعمت سے نوازا جائے تو کہتے ہیں۔

انما نمدھم بہ من مال وبنین (55) نسارع لھم فی الخیرات (23 : 56) ” یہ جو ہم نے انہیں مال اور اولاد دے کر امداد کی ہے وہ اس لیے کہ ہم ان کے لیے بھلائی میں جلدی کرنے والے ہیں “۔ اور اگر ان پر عذاب آجائے تو بھی ان کے دل نرم نہیں ہوتے ، ان کے ضمیر نہیں جاگتے اور اس مصیبت کو دور کرنے کے لیے اللہ کے سامنے عاجزی نہیں کرتے کہ وہ ان کی اس مصیبت کو دور کرے۔ یہ اسی طرح رہیں گے یہاں تک کہ قیامت کے دن ان کو عذاب الہی آلے اور وہاں مایوس اور حیران رہ جائیں ۔