You are reading a tafsir for the group of verses 23:68 to 23:70
افلم يدبروا القول ام جاءهم ما لم يات اباءهم الاولين ٦٨ ام لم يعرفوا رسولهم فهم له منكرون ٦٩ ام يقولون به جنة بل جاءهم بالحق واكثرهم للحق كارهون ٧٠
أَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا۟ ٱلْقَوْلَ أَمْ جَآءَهُم مَّا لَمْ يَأْتِ ءَابَآءَهُمُ ٱلْأَوَّلِينَ ٦٨ أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا۟ رَسُولَهُمْ فَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٦٩ أَمْ يَقُولُونَ بِهِۦ جِنَّةٌۢ ۚ بَلْ جَآءَهُم بِٱلْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَـٰرِهُونَ ٧٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

افلم یدبرو لنکبون (آیت نمبر 68 تا 74)

حضرت محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں اگر ان پر کوئی ذرا بھی غور کرے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سے منہ پھیرے کیونکہ اس کلام میں بہت ہی خوبصورتی ، بہت کی کمال ، بہت ہی جازبیت ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت ہی فطری اور انسانی عقل و وجدان کے مطابق ہیں ۔ اس میں دل دماغ کی غذا موجود ہے ، ان کا رحجان بہت ہی تعمیری ہے۔ یہ جو نظام و قانون پیش کرتی ہیں وہ نہایت ہی مستحکم ہے ۔ ان پوری تعلیمات کو دیکھ رکر انسانی فطرت ان کو تسلیم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ منکرین نے اس کلام پر تدبر ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے منہ مورتے ہیں۔

افلم ید بر و القول (23 : 8 6) تو کیا انہوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا۔

ام جاء ھم ھم الاولین (23 : 68) ” یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی “۔ یا یہ بات کہ پغمبر کا بھیجنا ان کے اور ان کے آباء کی روایات میں کوئی مانوس بات نہیں ہے ۔ ان کی رویات میں بات نہیں ہے کہ کوئی رسول آئے یا ان کے سامنے کوئی کلمہ توحید جیسے افکار و نظریات پیش کرے۔ رسولوں کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ رسول پے در پے آتے ہیں اور تمام رسولوں نے یہی تعلیم دی ہے جو نبی آخر الزمان دے رہے ہیں اور ان رسولوں میں سے کئی کے بارے میں وہ معلومات بھی رکھتے ہیں۔

ام لم یعرفوا رسولھم فھم لہ منکرون (23 : 69) ” یا یہ اپنے رسول کبھی واقف نہ تھے اور اب یہ اس سے بد کتے ہیں “۔ یعنی ان کے امراض کا یہ سبب بھی نہیں ہوسکتا کہ جو رسول آیا ہے اس سے ان کی جان پہچان نہیں ہے ۔ وہ تو اس رسول کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت کو جانتے ہیں۔ اس کے نصب کو جانتے ہیں ، وہ اس کی ذات وصفات سے اچھی طرح با خبر ہیں۔ وہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ صادق و امین ہیں اور رسالت سے پہلے ہی خود انہوں نے ان کو صادق وامین کے لقب سے نوازا تھا ۔

ام یقولون بہ جنۃ (23 : 70) ” یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنوں ہے “۔ ان میں سے بعض بیوقوف آپ پر یہ الزام لگاتے تھے لیکن یہ محض الزام تھا ، دل سے تو وہ بھی جانتے تھے کہ وہ عاقل اور کامل سے کیونکہ پوری زندگی میں انہوں نے اس کے حوالے سے کسی لغزش کا نہ سنا تھا۔

مذکورہ بالا شبہات میں سے کسی شبہ کی کوئی گنجائش تو نہ تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ حق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سچائی کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ جو سچائی آپ لائے تھے وہ ان سے وہ باطل اقدار چھین رہی تھی جن میں وہ زندگی بسر کرتے تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور یہ سچائی ان کی خواہشات نفس اور ان کی زندگیوں میں رچی بسی اور جمی ہوئی عادات کے خلاف تھی۔

بل جاء ھم بالحق و اکثر ھم للحق کرھون (23 : 70) بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہیـــ“۔ سچائی تو سچائی ہوتی ہے۔ وہ ان کی خواہشات کے ساتھ بدل نہیں سکتی۔ سچائی پر تو زمین و آسمان کا قیام ہے ۔ اس کائنات پر نافذ ہونے والا ناموس دراصل حق ہے۔ اسی ناموس اور اسی حق کے مطابق یہ کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی تما موجود ات چل رہی ہیں۔

ولو اتبع الحق فیھن (23 : 71) ” اور حق اگر ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ایک ہے اور ثابت ہے۔ خواہشات تو ہر انسان کی جدا جدا ہوتی ہے ، بدلتی رہتی ہیں۔ یہ پوری کائنات حق پر چلتی ہے اور اسکی چالایک ہے۔ اس کا اصول اور ناموس نہیں بدلتا ۔ اور نہ کسی عارض خواہشات کے مطابق اس ناموس میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے۔ اگر کائنات کا یہ نظام لوگوں کی تمنائوں اور بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہوجائے اور لوگوں کی عارضی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو دنیا کا یہ پورا نظام فساد پذیر ہوجائے۔ لوگوں کے حالات اور طریقے بگڑ جائیں ۔ اقدامات حیات اور حسن و فتح کے بدل جائیں۔ اگر کوئی خوش ہوتا ہے تو اقدار ہوتے ہن اور کوئی خفا ہوتا تو اقدار و پیمانے اور ہوتے۔ اسی طرح لوگوں کے پیمانے ان کی پسند ناپسند ، رغبت اور خوف ، خوشی اور غم کے مختلف حالات میں بھی بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسانی مزاج ایک حال میں نہیں رہتا۔ اس پر عوارض آتے رہتے ہیں جبکہ حق اپنی جگہ قائم رہتا اور یہ نظام کائنات اور اس کے مقاصد یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے نظام میں ثبات ، یکجہتی اور تسلسل قائم رہے اور نہایت ہی پختہ اور قابل تغیر ضوابط کے مطابق یہ کائنات چلے اور تغیرات اور بےیقینی سے اس کا نظام پاک ہو۔

اس کائنات کا نظام چونکہ حق پر ہے اور اس کو حق کے مطابق ہی چلایا جا رہا ہے ۔ چناچہ انسانی زندگی کو چلانے کے لیے بھی اللہ نے ایک سچائی پر مشتمل ضابطہ مقرر کردیا گیا ہے ۔ یہ ضابطہ بھی اس ذات نے مقرر کیا ہے جو اس پوری کائنات کو چلارہی ہے۔ جس طرح کائنات کا ضابطہ اٹل ہے اسی طرح یہ انسانی ضابطہ بھی اٹل ہے کیونکہ انسان بھی کائنات کا ایک جز ہے تاکہ انسانی طرز عمل اور اس کائنات کی رفتار کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ اس لیے حق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات کا شارع ہی انسانی ضابطہ حیات کا شارع اور مصنف ہو تاکہ انسان کی چلت کائنات کی چلت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر انسانوں کی زندگی کی ضابطہ بندی ان کی خواہشات پر چھوڑدی جائے تو انسانوں کی زندگی کا نظام فسا پذیر ہوجائے گا اور اس میں خلل واقع ہوجائے گا۔