You are reading a tafsir for the group of verses 22:58 to 22:59
والذين هاجروا في سبيل الله ثم قتلوا او ماتوا ليرزقنهم الله رزقا حسنا وان الله لهو خير الرازقين ٥٨ ليدخلنهم مدخلا يرضونه وان الله لعليم حليم ٥٩
وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوٓا۟ أَوْ مَاتُوا۟ لَيَرْزُقَنَّهُمُ ٱللَّهُ رِزْقًا حَسَنًۭا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٥٨ لَيُدْخِلَنَّهُم مُّدْخَلًۭا يَرْضَوْنَهُۥ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَلِيمٌ حَلِيمٌۭ ٥٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

درس نمبر 741 ایک نظر میں

اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوا تھا کہ آخرت میں مومنین اور مکذبین کا خاتمہ کیا ہوگا ، جہاں بادشاہت صرف اللہ وحدہ کی ہوگی۔ مضمون یہ چل رہا تھا کہ اللہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی حفاظت کرتا ہے اپنی دعوت کو خود بچاتا ہے اور جو ایمان لاتا اسے اجر دیتا ہے جو کفر کرتا ہے اسے سزا دیتا ہے۔

اس سبق کا آغاز ہجرت سے ہوتا ہے ، ا سے قبل مہاجرین و انصار کو جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کا دفاع بغیر جہاد کے ممکن نہیں۔ جب تک وہ جہاد نہ کریں گے نہ وہ اللہ کی بندگی کرسکتے ہیں ، نہ عبادات ، نہ اپنی جان کی حفاظت کرسکتے ہیں نہ اپنے دین کی ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ انہیں اپنے شہر سے بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا ہے۔ ہاں انہوں نے یہ ” جرم “ ضرور کیا تھا کہ وہ صرف اللہ کو رب مانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تسلی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنا شہر چھوڑا اور مال و جائیداد کو چھوڑا تو اللہ ہی اس کام کا اجر نہیں دے گا۔

اسی حوالے سے ایک عام اصولوں کے طور پر بتا دیا جاتا ہے کہ جس پر کوئی ظلم ہو تو وہ اس کے بدلے اسی قدر ظلم کرسکتا ہے۔ اس صورت میں اگر ظالم مزید ظلم پر اتر آئے اور پھر ظلم کرے تو اللہ مظلوموں کے ساتھ ہوگا۔ اس وعدے پر اللہ تعالیٰ دلائل بھی دیتا ہے کہ اللہ مدد کرسکتا ہے کیونکہ اللہ ہی اس پوری کائنات کو چلا رہا ہے اور جس سنت اور ناموس کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے اس کا ایک حصہ اور تقاضا یہ بھی ہے کہ مظلوم کی امداد کی جائے۔

اس کے بعد خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے کہ ہر امت کا ایک منہاج ہے ، اس کو اس پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے اس کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ مشرکین کو یہ صاف صاف بتا دیں اور ان کو موقع نہ دیں کہ وہ آپ کے ساتھ کوئی تنازعہ کریں۔ اگر وہ پھر بھی مجادلہ پر اتر آئیں تو معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں۔ وہ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا کیونکہ اصل علم تو اس کے پاس ہے جو آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ لوگ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں ، اس پر ان کے پاس کیا ثبوت ہے ، یہ بغیر ثبوت کے اضنے موقف پر اس لئے ڈٹے ہوئے ہیں کہ ان کو کلمہ حق کے سننے ہی سے نفرت ہے اور یہ نفرت ان پر اس قدر غالب ہے کہ جو لوگ ان کو آیات سناتے ہیں خطرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ان پر حملہ نہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کرتے ہیں کہ جلدی نہ کرو ، تمہارے لئے آگ تیار ہے اور وقت جلدی ہی آنے والا ہے۔

اس کے بعد ان الموں کے ضعف کو بیان کیا ہے جو اللہ کے سوا پکارے جاتے ہیں اور یہ تمام انسانوں کے نام ایک پیغام عام کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ ان الموں کی بیچارگی کو بڑے توہین آمیز انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ الہ مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔ یہ سبق اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کو اپنے فرئاض ادا کرنے چاہئیں۔ فرائض ہیں کیا ؟ یہ کہ وہ پوری انسانیت کی نگران ہے۔ اس کے لئے اخلاقی تیاری رکوع ، سجود اور فعل خیرات ہے اور نماز کا نظام قائم کرنا اور زکوۃ کا نظام قائم کرنا اور اللہ پر بھروسہ کرنا۔ اس کے ساتھ یہ سورة بھی ختم ہوتی ہے۔

درس نمبر 741 تشریح آیات

والذین ھاجروا ……حلیم (95)

اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ان تمام باتوں کو ترک کر دے ، جن کو نفس انسانی چاہتا ہے ، جن کو وہ بےحد عزیز سمجھتا ہے اور جن پر وہ بےحد حریص ہوتا ہے۔ فیملی ، شہر ، وطن ، ماضی کی یادیں ، مال اور زندگی کا ساز و سامان۔ ان سب باتوں کو اپنے نظریہ پر قربان کرنا اور اللہ کی رضامندی حاصل کرنا اور اللہ کے ہاں جو کچھ اجر ہے اس کی طرف دیکھنا ، یہ ایسا کام ہے کہ یہ دنیا و مافیا سے زیادہ قیمتی ہے۔

ہجرت کا حکم فتح مکہ سے قبل تھا اور اس وقت شروع ہوا تھا جب اسلامی حکومت مدینہ میں قائم ہوگئی تھی۔ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی دوسرے علاقوں کو چھوڑ کر مدینہ آتا تو اسے ہجرت نہ سمجھا جاتا تھا۔ البتہ اسے جہاد اور نیک عمل ضرور سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی جہاد کرے تو اسے اچھا عمل سمجھا جائے گا اور ثواب ہوگا۔

والذین ……رزقاً حسناً (22 : 85) ” جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کردیئے گئے یا مر گئے ، اللہ ان کو اچھا رزق دے گا۔ “ خواہ وہ شہید ہوئے یا اپنی موت آپ مر گئے ۔ کیونکہ انہوں نے اپنا ملک اور مال و دولت چھوڑ دیا اور اس انجام کے لئے تیار ہو کر نکل آئے۔ انہوں نے شہادت کو ترجیح دی اور دنیا کے تمام عزیز ترین مال و دولت اور ملک کو قربان کردیا۔ اس لئے اللہ نے بھی ہر حال میں ان کے لئے عظیم اجر کا فیصلہ کردیا۔

وان اللہ لھو خیر الرزقین (22 : 85) ” اللہ ان کو اچھا رزق دے گا بیشک اللہ اچھا رزق دینے والوں میں سے ہے۔ “ اور یہ اللہ نے ان کے لئے جس رزق کا اعلان کیا ہے وہ اس سے بہت زیادہ اچھا ہے جو انہوں نے چھوڑا ہے۔

لید خلنھم مدخنا یرضونہ (22 : 95) ” اور انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے۔ “ وہ اس جگہ کی طرف نکلے جس پر اللہ رضای تھا لہٰذا ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں وہ راضی ہوں گیغ۔ یہ بات ان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ ان کے لئے ان کی مرضی کی جگہ تیار کرے گا ، حالانکہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور وہ خالق ہے۔

وان اللہ لعیم حلیم (22 : 95) ” بیشک اللہ علیم و حلیم ہے۔ “ اللہ کے علم میں ہیں وہ مظالم جو ان پر ہوتے رہے۔ اللہ کے علم میں یہ بھی ہے جو وہ چاہتے ہیں اور حلیم اس طرح کہ وہ سب کو مہلت دیتا ہے اور پھر وہ ظالم اور مظلوم دونوں کو پوری پوری جزاء دے گا۔

انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ جن پر مظالم ڈھائے جائیں تو وہ کبھی صبر کرتے ہیں اور کبھی صبر نہیں کرتے۔ جب صبر نہیں کرتے تو وہ ظلم کا جواب دیتے ہیں۔ وہ بھی ان اذیتوں کے مقابلے میں دشمنوں کو دیسی ہی اذیتیں دیتے ہیں۔ اگر ظالم پھر بھی باز نہیں آتے تو اللہ یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لیتا ہے کہ وہ مظلوموں کی نصرت کرے گا۔