You are reading a tafsir for the group of verses 22:55 to 22:57
ولا يزال الذين كفروا في مرية منه حتى تاتيهم الساعة بغتة او ياتيهم عذاب يوم عقيم ٥٥ الملك يوميذ لله يحكم بينهم فالذين امنوا وعملوا الصالحات في جنات النعيم ٥٦ والذين كفروا وكذبوا باياتنا فاولايك لهم عذاب مهين ٥٧
وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى مِرْيَةٍۢ مِّنْهُ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ ٥٥ ٱلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍۢ لِّلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فِى جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٥٦ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا فَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ ٥٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

پیغمبر کی دعوت میں دلیل کی عظمت پوری طرح موجود ہوتی ہے۔ مگر وہ لوگ جو صرف ظاہری عظمتوں کو جانتے ہیں وہ پیغمبر کی معنوی عظمت کو دیکھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کردیتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ شک و شبہ میں پڑے رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ حق کو ظاہری عظمتوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ حق کو مجرد روپ میں لوگوں کے سامنے لائے تاکہ جو لوگ حقیقت شناس ہیں وہ اس کو پہچان کر اس سے وابستہ ہوجائیں۔ اور جو ظاہر پرست ہیں وہ اس کو نظر انداز کرکے اپنا مجرم ہونا ثابت کریں۔

’’آیتوں کو جھٹلانا‘‘ یہ ہے کہ آدمی دلیل کی سطح پر ظاہرہونے والے حق کو نظر انداز کردے۔ وہ اس صداقت کو ماننے کے ليے تیار نہ ہو جو مجرد روپ میں اس کے سامنے ظاہر ہوئی ہے۔