وحرام على قرية اهلكناها انهم لا يرجعون ٩٥ حتى اذا فتحت ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون ٩٦ واقترب الوعد الحق فاذا هي شاخصة ابصار الذين كفروا يا ويلنا قد كنا في غفلة من هاذا بل كنا ظالمين ٩٧
وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـٰهَآ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ٩٥ حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍۢ يَنسِلُونَ ٩٦ وَٱقْتَرَبَ ٱلْوَعْدُ ٱلْحَقُّ فَإِذَا هِىَ شَـٰخِصَةٌ أَبْصَـٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَـٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِى غَفْلَةٍۢ مِّنْ هَـٰذَا بَلْ كُنَّا ظَـٰلِمِينَ ٩٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
کسی بستی کے لیے ایمان میں داخلہ حرام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے قبولِ ایمان کی استعداد ختم ہوجائے۔ جب حق واضح دلائل کے ساتھ سامنے آتا ہے تو آدمی اپنی عین فطرت کے تحت مجبور ہوتا ہے کہ وہ اس کو پہچانے۔ اب جو لوگ اس پہچان کے بعد حق کا اعتراف کرلیں وہ اپنی فطرت کو باقی رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ دوسری چیزوں کو اہمیت دینے کی بنا پر اس کا اعتراف نہ کریں وہ گویا اپنی فطرت پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ حق کا انکار ہمیشہ اپني فطرت کو اندھا بنانے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی فطرت کو اندھا بنانے کا خطرہ مول لیں ان کا انجام یہی ہے کہ ان کے لیے ایمان میں داخل ہونا بالکل ناممکن ہوجائے۔
جو لوگ دلائل کی زبان میں حق کو نہ پہچانیں وہ حق کو صرف اس وقت پہچانیں گے جب کہ قیامت ان کی آنکھ کا پردہ پھاڑ دے گی۔ مگر اس وقت کا پہچاننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ ماننے کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ ماننے کا۔